spot_img

ذات صلة

جمع

حماس کے مذاکراتی وفد پر دوحہ حملے کی اندرونی کہانی, باسم نعیم کا تہلکہ خیز انکشاف

شیعہ نیوز: اسلامی مزاحمتی تحریک حماس کے سیاسی بیورو کے رکن باسم نعیم نے دوحہ (قطر) میں تحریک کے مذاکراتی وفد پر ہونے والے حملے کی پہلی برسی کے موقع پر (جو 9 ستمبر 2025ء کو پیش آیا تھا) کئی اہم اور نئے انکشافات کیے ہیں۔

باسم نعیم نے ایک پریس بیان میں بتایا کہ جماعت کو گذشتہ سال ٹھیک اسی دن امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی طرف سے قطری ثالثی کے ذریعے جنگ بندی کے لیے مذاکرات کی ایک پیشکش ملی تھی، جس کے تحت حماس کو اس تجویز پر جواب دینے کے لیے 48 گھنٹے کا وقت دیا گیا تھا۔

انہوں نے واضح کیا کہ مذاکراتی وفد نے بات چیت کی شقوں پر غور کرنے کے لیے مشیروں کے ایک گروپ کے ساتھ میٹنگ کی تھی اور اس ملاقات کا ماحول تجویز کو قبول کرنے کی طرف مثبت تھا، البتہ اس دوران کچھ سوالات اور استفسارات بھی موجود تھے، بالخصوص ضمانتوں اور معاہدے پر عمل درآمد کے طریق کار کے حوالے سے کچھ تحفظات بھی تھے۔

یہ بھی پڑھیں : اسرائیلی فوج کی ٹارگٹ کلنگ کارروائی، القسام کے کمانڈر اور سابق اسیر فرح حامد غزہ میں شہید

جنگ بندی پر غور کے دوران وفد پر حملہ

باسم نعیم نے مزید کہا کہ ایک ایسے وقت میں جب تحریک تمام فریقوں کے ساتھ مل کر جنگ کو روکنے اور امن قائم کرنے کی کوشش کر رہی تھی، دوحہ میں اس کے مذاکراتی وفد کو اچانک نشانہ بنا لیا گیا۔

انہوں نے کہا کہ “ایک دوسرا گروہ ایسا ہے جو ایک تاریک اور خبیث نظریے کا حامل ہے اور خون اور تباہی کے سمندر کے بغیر زندہ نہیں رہ سکتا”، اس امر کا اظہار کرتے ہوئے کہ اسی گروہ نے جنگ روکنے کے موقع کو خراب کرنے اور لاکھوں انسانوں کے سامنے موجود “امید کی کرن” کو بجھانے کا فیصلہ کیا۔

انہوں نے اس بات کی طرف اشارہ کیا کہ یہ حملہ قطری دارالحکومت کے قلب میں اس وقت کیا گیا جب وفد جنگ ختم کرنے کے لیے ایک معاہدے تک پہنچنے کی غرض سے تجویز پر غور کر رہا تھا، جسے انہوں نے قابض دشمن کی طرف سے جنگ ختم نہ کرنے کی شدید خواہش کا ثبوت قرار دیا۔

وفد کو قتل کرنے کی کوشش ناکام

باسم نعیم کا کہنا تھا کہ حماس کو اندازہ تھا کہ قابض اسرائیلی حکومت کے سربراہ بنجمن نیتن یاھو،اس جنگ کو “اپنی بقا کی ذاتی جنگ” سمجھتے ہیں اور اس مقصد کے حصول کے لیے وہ تحریک کی قیادت بالخصوص خلیل الحیہ کی سربراہی میں کام کرنے والے مذاکراتی وفد کو نشانہ بنانے تک جا سکتے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ قابض دشمن نے عملی طور پر یہ حملہ کر بھی ڈالا لیکن وہ “بری طرح ناکام رہا”، اس بات کی تصدیق کرتے ہوئے کہ مذاکراتی وفد کے تمام ارکان محفوظ رہے اور ان میں سے کسی کو کوئی نقصان نہیں پہنچا۔

انہوں نے واضح کیا کہ دوسری طرف اس بمباری کے نتیجے میں متعدد انتظامی عملے کے افراد اور محافظ شہید ہو گئے، جن میں ان کے ذاتی محافظ عبداللہ عبدالواحد بھی شامل تھے، جن کے بارے میں انہوں نے بتایا کہ وہ 15 سال سے زیادہ عرصے تک ان کے ساتھ رہے۔

باسم نعیم نے اس بات پر زور دیا کہ یہ کارروائی جنگ کے راستے میں ایک فیصلہ کن موڑ ثابت ہوئی کیونکہ اس نے ان کے بقول یہ واضح کر دیا کہ ایک ایسا فریق بھی موجود ہے جس کا مقصد صرف “قتل وغارت گری، تباہی، بھوک اور جبری انخلا” ہے، جو نہ تو استحکام یا امن سے دلچسپی رکھتا ہے اور نہ ہی بین الاقوامی اقدار اور قوانین کا پابند ہے۔

حملے کی پہلی برسی

بدھ کے روز دوحہ میں حماس کے مذاکراتی وفد پر قاتلانہ حملے کی پہلی برسی ہے، جب قابض اسرائیلی فوج نے 9 ستمبر 2025ء کو اس وقت کے تحریک کے سیاسی بیورو کے سربراہ خلیل الحیہ کی زیرِ قیادت وفد کے ایک اجلاس کو اس وقت نشانہ بنایا جب وہ غزہ پٹی میں جنگ بندی کے معاہدے سے متعلق امریکی تجویز پر غوروخوض کر رہا تھا۔

حماس نے اس وقت اعلان کیا تھا کہ خلیل الحیہ کے دفتر کے ڈائریکٹر جہاد لبد، تحریک کے سربراہ کے صاحبزادے ہمام الحیہ، محافظین عبداللہ عبدالواحد، مومن حسونہ اور احمد عبدالمالک شہید ہو گئے ہیں۔

جماعت نے قطری داخلی سکیورٹی کے اہلکار وارنٹ آفیسر بدر الحمیدی کی شہادت پر بھی تعزیت کا اظہار کیا تھا جو اس بمباری کے نتیجے میں شہید ہوئے تھے۔

دوحہ حملے سے شرم الشيخ معاہدے تک

حملے کے بعد کے حالات کا ذکر کرتے ہوئے باسم نعیم نے کہا کہ امریکہ نے اس جرم میں مبینہ “ملی بھگت” کے باوجود اس ناکام کارروائی اور پیدا ہونے والے بین الاقوامی غصے کے بعد اس بحران سے نکلنے کا راستہ تلاش کرنا شروع کیا۔

انہوں نے مزید کہا کہ صدر ٹرمپ کی طرف سے تجویز کردہ منصوبے کے ساتھ حماس نے مثبت انداز میں رویہ اپنایا، جو بعد میں جنگ بندی اور شرم الشيخ معاہدے پر دستخط کی صورت میں ختم ہوا۔

انہوں نے اس عزم کا اعظادہ کیا کہ تحریک شرم الشيخ میں طے پانے والی چیزوں کی پابند رہی اور اسرائیلی جارحیت اور خلاف ورزیوں کے باوجود فلسطینی عوام کو اسرائیلی حکومت کے منصوبوں سے بچانے کے لیے ذمہ دارانہ رویہ اختیار کیا۔

“امن کونسل” پر تنقید

باسم نعیم کی رائے میں بعد کے حالات نے یہ ثابت کر دیا کہ قابض دشمن نے اپنے مؤقف یا منصوبوں میں کوئی تبدیلی نہیں کی ہے، یہ کہ وہ کم درندگی کے ساتھ ہی سہی، نسل کشی اور جبری انخلا کے منصوبے کو آگے بڑھا رہا ہے۔

انہوں نے نام نہاد “امن کونسل” پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ وہ اب تک نتنياهو اور اس کی حکومت پر اتنی دباؤ ڈالنے میں ناکام رہی ہے جو طے شدہ امور پر عمل درآمد کروا سکے، اس نے “موت، تباہی اور بھوک” کے سلسلے کو جاری رکھنے کی اجازت دی۔

باسم نعیم نے اپنی بات اس دعوے کے ساتھ ختم کی کہ اس نقطہ نظر نے دہائیوں سے اپنی ناکامی کا ثبوت دیا ہے، اس کے تسلسل نے تشدد اور انتشار کے دائرے کو مزید گہرا کیا ہے، امید کو کم کیا ہے اور مایوسی اور انتہا پسندانہ رجحانات کو ہوا دی ہے۔

The post حماس کے مذاکراتی وفد پر دوحہ حملے کی اندرونی کہانی, باسم نعیم کا تہلکہ خیز انکشاف appeared first on شیعہ نیوز پاکستان.

​ 

spot_imgspot_img