شیعہ نیوز: گولہ بارود کی کمی اور امریکی ہتھیاروں کی فراہمی کے نیٹ ورک پر دباؤ کی رپورٹس کے دوران، ایک صہیونی میڈیا نے تل ابیب اور واشنگٹن کے درمیان ایک اہم سیکیورٹی معاہدے کے رکنے اور اس حکومت کی فوج کو اپاچی ہیلی کاپٹروں کی فراہمی میں تاخیر کی خبر دی۔
تہران – ارنا – ایران کے خلاف جارحانہ حملے کے نتیجے میں گولہ بارود کی کمی اور امریکی فوج کے سپلائی چین میں خلل کے بارے میں پینٹاگون کی رپورٹ کے سامنے آنے کے ساتھ ہی، صہیونی حکومت کے ٹی وی چینل 12 نے امریکی کمپنی بوئنگ سے 12 حملہ آور اپاچی ہیلی کاپٹروں کی خریداری کے معاہدے کو حتمی شکل دینے میں تل ابیب کی ناکامی کی خبر دی۔
اس رپورٹ کے مطابق، بوئنگ میں12 اپاچی ہیلی کاپٹروں کی پروڈکشن لائن اسرائیل کے لیے مخصوص کی گئی تھی لیکن مقررہ وقت میں مالی ادائیگی نہ ہونے کی وجہ سے یہ ہیلی کاپٹر ممکنہ طور پر کسی اور گراہک کو منتقل کر دیے جائیں گے۔
یہ بھی پڑھیں : ایران کے حملے میں امریکی فوجی اڈوں کی تباہی کی وہ تصاویر جو امریکی ذرائع ابلاغ میں شائع ہوئی ہیں
چینل 12 نے لکھا ہے کہ اگر معاہدے کو برقرار رکھنے کے لیے کوئی غیر معمولی مداخلت نہ کی گئی تو نئے ہیلی کاپٹر صہیونی حکومت کی فوج کو تین سال تک کی تاخیر سے مل سکتے ہیں۔
یہ پہلا موقع نہیں ہے جب مالی پابندیوں اور سپلائی چین کے مسائل سے تل ابیب کے ہتھیاروں کے پروگراموں پر اثر پڑا ہو۔
چینل 12 کی رپورٹ میں پہلے بھی امریکا سے خریدے گئے فوجی سازوسامان کی فراہمی میں تاخیر کے بارے میں بتایا گيا ہے۔
یہ خبر ایسے وقت سامنے آئی جب امریکی ٹی وی چینل این بی سی نیوز کی رپورٹ کے مطابق، امریکی وزارت جنگ پینٹاگون کے انسپکٹر جنرل نے ایران کے خلاف جنگ کے بارے میں اپنی پہلی رپورٹ میں اس جارحیت سے امریکی ہتھیاروں کے ذخائر اور فوجی سپلائی چین پر پڑنے والے اثرات کا جائزہ لیا ہے۔
پینٹاگون کے انسپکٹر جنرل نے یہ بھی اعلان کیا کہ اس تصادم کے نتیجے میں امریکی فوج میں گولہ بارود کی کمی اور سپلائی چین میں خلل پیدا ہوا۔
The post امریکہ کے گولہ بارود کا بحران صیہونی حکومت تک پہنچا 12 اپاچی ہیلی کاپٹروں کا سودا رکا appeared first on شیعہ نیوز پاکستان.


