spot_img

ذات صلة

جمع

کسی بھی ممکنہ تصادم کے لیے تیار ہیں: ترجمان سپاہ پاسداران

تہران-ارنا- سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی کے ترجمان نے...

“تختِ فولاد”: اصفہان کی تاریخ اور فن تعمیر کا خزانہ

تخت فولاد جسکا تاریخی نام لسان الارد اور بابا...

سپر ہیوی ویٹ ویٹ لفٹنگ کا گولڈ میڈل ایران کے نام

تہران – ارنا – ناگویا ایشین گیمز میں سپر...

ہماری سلامتی خطرے میں پڑجائے تو کوئی انفراسٹرکچر محفوظ نہیں رہے گا، قالیباف

شیعہ نیوز: ایران کے پارلیمانی اسپیکر باقر قالیباف نے کہا ہے کہ اگر ایران کو تیل فروخت کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی تو خطے میں کوئی ملک تیل فروخت نہیں کر سکے گا اور ایران کی سلامتی کو خطرہ لاحق ہوا تو کوئی بنیادی ڈھانچہ بھی محفوظ نہیں رہے گا۔

رپورٹ کے مطابق ایران کی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے کہا ہے کہ اگر ایران کی سلامتی یقینی نہ ہو تو خطے میں کوئی بنیادی ڈھانچہ محفوظ نہیں رہے گا۔

تفصیلات کے مطابق قالیباف نے پارلیمنٹ کے اجلاس میں اپنے خطاب کے دوران آٹھ سالہ دفاع مقدس، 12 روزہ اور 40 روزہ جنگوں کے شہدا، کمانڈروں اور سکیورٹی کے محافظوں کو خراج عقیدت پیش کیا۔

یہ بھی پڑھیں : مسجد اقصی پر دھاووں اور اسرائیل کے الحاق کے بیانات پر عرب اور اسلامی ممالک کی مذمت

انہوں نے حزب اللہ لبنان کے سابق سیکرٹری جنرل شہید سید حسن نصراللہ کی دوسری برسی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ وہ صرف ایک فوجی کمانڈر یا دینی عالم نہیں بلکہ ایک اسٹریٹجسٹ تھے، جنہوں نے خطے میں طاقت کا توازن مستضعفین اور انقلاب اسلامی کے حق میں تبدیل کیا۔ شہید نصراللہ نے حزب اللہ کو ایک جنگجو گروہ سے ایسی مزاحمتی قوت میں تبدیل کیا جس نے خطے کے سکیورٹی توازن کو ازسرنو متعین کیا۔ آج مزاحمت کا ڈھانچہ اسی نظم و ضبط اور اسٹریٹجک سوچ کے ساتھ شیخ نعیم قاسم کی قیادت میں پوری قوت کے ساتھ اپنا راستہ جاری رکھے ہوئے ہے۔ دشمن یہ سمجھتا تھا کہ کمانڈروں کو شہید کرکے لبنان میں مزاحمت کو روکا جا سکتا ہے، لیکن گزشتہ دو برس کے تجربات نے ثابت کیا کہ مزاحمت کسی ایک فرد پر منحصر نہیں بلکہ ایک منظم ڈھانچہ بن چکی ہے۔

انہوں نے کہا کہ شہید کمانڈروں کا خون مزاحمتی تحریک کو مزید زندہ اور طاقتور بنا گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ آج امریکہ کی جانب سے ایران پر بحری محاصرہ مسلط کرنے، فضائی کوریڈورز بند کرنے اور ملک کی تجارتی شاہراہوں پر زیادہ سے زیادہ دباؤ ڈالنے کی کوششیں بھی اقتصادی منصوبہ بندی اور فوجی ردعمل کے ذریعے ناکام ہوں گی۔

قالیباف نے کہا کہ جس قوم کی تاریخ میں ایسی مضبوط اور دیرینہ مزاحمتی مثالیں موجود ہوں، اسے محاصرے اور دھمکیوں سے خوف زدہ نہیں کیا جا سکتا۔

انہوں نے امریکی صدر کے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں دیے گئے بیانات پر بھی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ان بیانات سے ظاہر ہوتا ہے کہ امریکہ نے اپنا طرز عمل تبدیل نہیں کیا۔ قالیباف نے کہا کہ ایران کی جانب سے ایسے اقدامات کا جواب وہی ہوگا جو پہلے بھی دیا جاچکا ہے۔

پارلیمنٹ کے اسپیکر نے کہا کہ امریکی حکام کو معلوم ہونا چاہیے کہ ایران کو دھمکیوں، لفاظی یا فضائی و تجارتی محاصرے کے ذریعے پیچھے نہیں ہٹایا جا سکتا۔ کسی بھی جارحیت اور مہم جوئی کی صورت میں ایران کا جواب سخت، پشیمان کن، درست اور فوری ہوگا۔

قالیباف نے آبنائے ہرمز کے حوالے سے امریکی صدر کے حالیہ بیانات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ یہ ماضی کے دعوؤں کا اعادہ ہیں اور ان کی حقیقت سب پر واضح ہے۔ امریکہ اور دیگر تمام ممالک جان لیں کہ جیسا کہ ہم پہلے بھی کہہ چکے ہیں، جس خطے میں ہم تیل فروخت نہیں کریں گے، وہاں کوئی تیل فروخت نہیں کر سکے گا اور اگر ہماری سلامتی یقینی نہ ہو تو کوئی بنیادی ڈھانچہ محفوظ نہیں رہے گا۔

انہوں نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں صدر مسعود پزشکیان کے بیانات کو سراہتے ہوئے کہا کہ انہوں نے ایرانی قوم کے نمائندے کی حیثیت سے ایک قدیم تہذیب اور ایسی انقلابی و سربلند قوم کی آواز بلند کی جو دھمکی اور تسلط کے سامنے سر نہیں جھکاتی۔

The post ہماری سلامتی خطرے میں پڑجائے تو کوئی انفراسٹرکچر محفوظ نہیں رہے گا، قالیباف appeared first on شیعہ نیوز پاکستان.

​ 

spot_imgspot_img