شیعہ نیوز: مشرق وسطیٰ کی سنگین صورتحال، ایران پر امریکی ممکنہ حملوں کے خدشات اور یمن-سعودی جنگ کی آڑ میں مکتب اہل بیت کے خلاف پھیلے جانے والے بے بنیاد پروپیگنڈے کے سدِباب کے لیے ملت تشیع پاکستان کی تمام نمائندہ جماعتوں کا ایک اہم قومی مشاوراتی اجلاس جمعہ ۱۶ اکتوبر کو کراچی میں منعقد ہوا۔
اجلاس میں مجلس وحدت مسلمین، شیعہ علماء کونسل، امامیہ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن، امامیہ آرگنائزیشن، ہیئت ائمہ مساجد و علماء امامیہ، پیام ولایت فاؤنڈیشن، تنظیم عزاداری، جعفریہ آرگنائزیشن، تحریک بیداری امت مصطفیٰ سمیت دیگر قومی شخصیات نے بھرپور شرکت کی۔
باہمی مشاورت کے بعد اجلاس نے یمن-سعودی جنگ میں پاکستان کے ثالثی کے کردار پر زور دیا۔ اجلاس کے اختتام پر پریس بریفنگ دی گئی اس موقع پر علامہ ناظر عباس تقوی ، مولانا صادق جعفری ، مولانا عقیل موسی ، مولانا اصغر شہیدی، علامہ باقر حسین زیدی، علامہ ںثار قلندری، مولانا حیدر عباس ، مولانا اطہر مشہدی ، علامہ سجاد حاتمی ، علامہ سجاد شبیر ، برادر کاظم عباس ، برادر کونین مصطفی ، عسکری دیوجانی ، یاور عباس ، صغیر حسن عابدی سمیت دیگر رہنماء شریک تھے۔
پریس کانفرنس کرتے ہوئے شرکاء نے رہبر معظم آیت اللہ سید مجتبی خامنہ ای کی قیادت پر مکمل اعتماد کا اعلان کیا اور واضح کیا کہ ایران-امریکہ کشیدگی میں پاکستان نے ثالثی کر کے دنیا میں اپنا مقام بنایا ہے۔ اب بھی دو مسلم ممالک کے درمیان تنازع میں پاکستان کو فریق بننے کے بجائے ثالثی کا کردار ادا کرنا چاہیے۔ یمن کی عوام بھی پاکستان سے اسی کردار کی توقع رکھتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: رانا کاظم گزشتہ 8 روز سے لاپتہ، کسی ادارے نے اب تک گرفتاری کی تصدیق نہیں کی: علامہ احمد اقبال رضوی
شرکاء کا کہنا تھا کہ ملت تشیع سمیت یمن کے حوثی قبائل قبلہ اول کی آزادی کے لیے صیہونی دشمن کے خلاف جنگ کر رہے ہیں۔ جو قوم قبلہ اول کے لیے اپنی قیمتی قیادتیں قربان کر سکتی ہے، وہ مکہ و مدینہ کی حفاظت کے لیے بھی اپنا سب کچھ داؤ پر لگا سکتی ہے۔ مکہ و مدینہ پر حملے یا یمن سے ان کے خطرے کا پروپیگنڈا سراسر جھوٹ ہے۔
انہوں نے متنبہ کیا کہ امریکہ ایران پر نئے حملے کی تیاری کر رہا ہے۔ اگر امریکہ ایک بار پھر ایسی حرکت کرتا ہے تو پاکستان کے شیعہ و سنی اپنے پڑوسی ایرانی بھائیوں کے ساتھ کندھے سے کندھا ملا کر کھڑے ہوں گے۔
آخر میں انہوں نے اجلاس کی اہم قرارداد کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ یہ قرارداد ملت تشیع — جو پاکستان کی تقریباً ۳۰ فیصد آبادی پر مشتمل ہے — کی متفقہ پالیسی اور جذبات کی ترجمانی کرتی ہے۔
قرارداد میں کہا گیا ہے کہ یمن-سعودی جنگ میں پاکستان فریق بننے کے بجائے ملک کے آئین کے آرٹیکل ۴۰ کے مطابق عمل کرے، جو واضح طور پر کہتا ہے کہ مسلم ممالک کے درمیان تنازعات میں پاکستان ثالثی کا کردار ادا کرے گا۔ یہی قائداعظم کی واضح کردہ خارجہ پالیسی تھی اور اسی بنیاد پر ۲۰۱۵ میں پاکستان کی پارلیمنٹ نے اس جنگ سے خود کو الگ رکھنے اور ثالثی پر زور دینے کی قرارداد منظور کی تھی۔ یہی آج کے اجلاس کا اعلامیہ اور ملت تشیع کا مطالبہ ہے۔
اجلاس کا اختتام دعائے سلامتی امام زمانہ عجل اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف سے ہوا۔
The post ملت تشیع کا اہم قومی مشاوراتی اجلاس!یمن-سعودی تنازع میں پاکستان آئین کے آرٹیکل 40 کے مطابق ثالثی کا کردار ادا کرے۔ اعلامیہ appeared first on شیعہ نیوز پاکستان.


