spot_img

ذات صلة

جمع

جرمن کا دوہرا بیان؛ ایران سے ہی مذاکرات اور کشیدگی میں کمی کا مطالبہ کردیا

شیعہ نیوز: جرمن وزیرِ خارجہ نے مغربی ایشیا اور خلیج فارس میں بحران کی بنیادی وجوہات کو نظر انداز کرتے ہوئے آبنائے ہرمز میں کشیدگی کم کرنے کے لیے ایران سے مذاکرات کا مطالبہ کیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق، جرمن وزیرِ خارجہ یوہان وادے فول نے ایران سے مذاکرات اور یمن و یوکرائن کی جنگیں بند کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ ایران کو مذاکرات کی میز پر آنا چاہیے، حوثیوں کو اپنے حملے روک دینے چاہئیں اور روس کو بھی اپنی بڑھتی ہوئی جارحانہ کارروائیاں ختم کر دینی چاہئیں۔

جرمنی کے وزیرِ خارجہ اس سے قبل بھی کہہ چکے ہیں کہ ایران کو سفارتی حل کے حصول کے لیے اپنی سنجیدہ خواہش کا اظہار کرنا چاہیے، زیادہ سے زیادہ مطالبات سے دستبردار ہونا چاہیے اور مذاکرات میں شامل ہونا چاہیے۔

جرمن وزیرِ خارجہ نے بحیرۂ احمر اور خلیجِ عدن میں بحری جہاز رانی کی سلامتی کی حمایت پر بھی زور دیا تھا۔

یہ بھی پڑھیں : ایران کی سات شرائط تسلیم کیے بغیر مذاکرات میں پیش رفت ممکن نہیں، قالیباف

حالیہ مہینوں میں جرمنی نے بحران کی بنیادی وجوہات کو نظر انداز کرتے ہوئے یورپی ممالک اور علاقائی اتحادیوں کے تعاون سے بحیرۂ احمر، خلیجِ فارس اور بحیرۂ اسود میں بحری جہاز رانی کے راستوں کی سلامتی یقینی بنانے کے لیے نئے سفارتی اقدامات کی کوششیں کی ہیں۔

23 اکتوبر 2026ء کو جرمنی، فرانس، برطانیہ، اٹلی، ترکی، مصر، پاکستان اور سعودی عرب کے وزرائے خارجہ کا آٹھ فریقی اجلاس استنبول میں منعقد ہوا۔ اس اجلاس کا بنیادی محور آبنائے ہرمز، باب المندب اور بحیرۂ اسود میں کشیدگی کم کرنے کے طریقوں کا جائزہ لینا تھا۔

وادے فول نے اس اجلاس میں بھی یمن کے حملے روکنے اور ایران کے مذاکرات میں شامل ہونے کا مطالبہ کیا، جبکہ روس پر بحیرۂ اسود میں آزادانہ جہاز رانی کو خطرے میں ڈالنے کا الزام عائد کیا۔

واضح رہے جرمن کا یہ دوہرا بیان ایسے وقت میں آیا ہے جب ایران کی سرزمین پر امریکہ کی جارحیت، یمن کی سرزمین پر سعودی فوجی اتحاد کے حملے اور روس کی سرحدوں کے قریب نیٹو کی پیش قدمی مغربی ایشیا اور مشرقی یورپ میں کشیدگی بڑھانے والے عوامل میں شامل ہیں۔

The post جرمن کا دوہرا بیان؛ ایران سے ہی مذاکرات اور کشیدگی میں کمی کا مطالبہ کردیا appeared first on شیعہ نیوز پاکستان.

​ 

spot_imgspot_img