ترتیب و تنظیم: ایل اے انجم
ایران میں ہونے والے حالیہ ہنگاموں کے بادل تقریباً چھٹ چکے ہیں تاہم اس دوران اسلامی جمہوریہ ایران کیخلاف مغربی میڈیا کے متواتر پھیلائے گئے جھوٹ اور گمراہ کن بیانیے بے نقاب ہو رہے ہیں۔ ایرانی ہنگاموں کے حوالے سے مغربی میڈیا کی جانبدارانہ رپورٹنگ کا پوسٹ مارٹم امریکہ میں قائم معروف تحقیقاتی ویب سائٹ “دی گرے زون” نے چند روز پہلے ہی کر دیا تھا جس میں تفصیل سے بتایا گیا تھا کہ امریکہ اور اسرائیل کی فنڈنگ سے چلنے والی این جی اوز کا ایرانی فسادات کو بھڑکانے میں کتنا کردار ہے۔ ایران کی حالیہ صورتحال پر مغربی سیاستدانوں اور میڈیا کے کردار پر روسی نشریاتی ادارے “رشیا ٹوڈے” میں چھپنے والے مضمون میں ایک دلچسپ تبضرہ قابل غور ہے۔ مضمون نگار لکھتے ہیں؛
یہ بھی پڑھیں: غزہ امن بورڈ میں شمولیت کے حکومتی فیصلے کو مسترد کرتے ہیں، سینیٹر علامہ راجہ ناصر عباس
“حالیہ ایرانی احتجاجی لہروں کے دوران مغربی سیاست دانوں اور میڈیا کی زبان ایک جانی پہچانی سکرپٹ پر مبنی ہے، “آزادی، جمہوریت اور مظاہرین کی حمایت” وہ چیزیں ہیں جنہیں یورپ اور امریکہ اپنی ترجیحات کے طور پر پیش کرتے ہیں۔ واشنگٹن اور لندن خود کو اخلاقی علمبردار بنا کر پیش کرتے ہیں، جو ایک جابر ریاست کے خلاف مظاہرین کے ساتھ کھڑے ہیں۔ تاہم تاریخ بتاتی ہے کہ یہ زبان شاذ و نادر ہی انسانی حقوق کے لیے حقیقی فکر میں تبدیل ہوئی ہے۔ اس کے بجائے، اس زبان نے ہمیشہ ایک کہیں زیادہ ٹھوس اور دیرینہ مقصد کو چھپانے کا کام کیا ہے، ایران کے وسائل، بالخصوص اس کے تیل پر قبضہ، اور اس کی سیاسی سمت پر اثر و رسوخ حاصل کرنا۔”
“یہ خیال کہ امریکہ یا یورپ عام لوگوں کے ساتھ اظہارِ ہمدردی کے لیے ایرانی احتجاج کی حمایت کرتے ہیں، اس وقت دم توڑ دیتا ہے جب کوئی ان کا تاریخی ریکارڈ دیکھتا ہے۔ مشرقِ وسطیٰ میں جدید امریکی مداخلت کے آغاز سے ہی، ایران کے ساتھ ایک ایسے معاشرے کے طور پر نہیں جس کی اپنی سیاسی امنگیں ہوں، بلکہ ایک “تزویراتی اثاثے” (Strategic Asset) کے طور پر سلوک کیا گیا ہے۔ اس کا جغرافیہ، اس کے توانائی کے ذخائر اور حریف طاقتوں کے درمیان اس کا محلِ وقوع اسے ایک ایسا پرکشش اثاثہ بناتا تھا جس پر کنٹرول حاصل کرنا ضروری سمجھا گیا۔ جب تک ایرانی سیاست مغربی معاشی مفادات کے مطابق رہی، تو حکومت کو برداشت کیا گیا۔ جب ایسا نہ ہوا، تو “حکومت کی تبدیلی” (Regime Change) کو ضروری قرار دے دیا گیا۔”
دریں اثناء تسنیم نے ایک رپورٹ میں ایرانی ہنگاموں کے بارے میں مغربی میڈیا کے 10 بڑے جھوٹ کا پردہ فاش کیا ہے۔ یہ جھوٹ مسلسل مغربی میڈیا میں پھیلایا جاتا رہا۔ جون 2025ء میں امریکہ اور صیہونی ریاست کی جانب سے براہِ راست حملوں کے بعد، جنوری کا مہینہ ایران کے لیے سب سے زیادہ ہنگامہ خیز رہا ہے۔ کاروباری حضرات کی جانب سے معاشی اصلاحات کے مطالبے کے لیے شروع ہونے والے پرامن احتجاج، جن کی بنیادی وجہ برسوں سے جاری مفلوج کن مغربی پابندیاں ہیں، دیکھتے ہی دیکھتے منظم ” دہشت گردی” میں بدل گئے۔ ایرانی شہروں کی حقیقی صورتحال اور عوام کے اصل جذبات مغربی میڈیا کے اس بیانیے سے بالکل مختلف ہیں جسے زبردستی پھیلایا جا رہا ہے۔ جنوری کے آغاز میں ایرانی عوام نے جن ہولناک حالات کا سامنا کیا، وہ ان من گھڑت رپورٹوں سے بالکل مطابقت نہیں رکھتے جو گردش کر رہی ہیں۔ اس تناظر میں، میڈیا غلامانہ طور پر اسرائیلی اور مغربی سیاست دانوں کے ان نکات کو دہرا رہا ہے جو اچانک ایرانی “حقوق” کے علمبردار بن گئے ہیں۔
وہ ان پابندیوں کے خاتمے کا ذکر تک نہیں کرتے جنہوں نے ایرانیوں کا ذریعہ معاش تباہ کر دیا ہے۔ انسانی حقوق کے لیے یہ اچانک اور جھوٹی ہمدردی اس وقت مزید واضح ہو جاتی ہے جب ہم اسے غزہ میں جاری نسل کشی میں مغرب کی شمولیت کے ساتھ موازنہ کرتے ہیں، جہاں اسرائیل نے گزشتہ دو سالوں میں کم از کم 71,000 افراد کو منظم طریقے سے قتل کیا ہے۔ پورا علاقہ ملبے کا ڈھیر بن چکا ہے اور بچ جانے والی آبادی کو نام نہاد جنگ بندی کے دوران بھی روزانہ بھوک اور بمباری کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ اس کے برعکس، مغرب نے ان مظالم کی نہ صرف وکالت کی بلکہ ان میں بھرپور مدد بھی فراہم کی۔ ذیل میں ان 10 بڑے جھوٹوں کا ذکر ہے جو مغربی سیاست دانوں اور میڈیا کی جانب سے حالیہ ہنگاموں کے بارے میں مسلسل بولے جا رہے ہیں:
1۔ صرف پرامن احتجاج ہوئے
مغربی میڈیا اور سیاسی شخصیات نے ایران کی صورتحال کو غلط رنگ دیتے ہوئے اسے سیکورٹی فورسز کی جانب سے نہتے اور پرامن مظاہرین پر محض کریک ڈاؤن قرار دیا۔ حقیقت یہ ہے کہ دسمبر کے آخر میں پرامن احتجاج شروع ہوئے تھے جب تاجروں نے ریال کی قدر میں کمی کے خلاف دکانیں بند کیں، لیکن 8 اور 9 جنوری کو یہ صورتحال اس وقت ہولناک رخ اختیار کر گئی جب جلاوطن شہزادے نے حکومت گرانے کی کال دی۔ اس کے بعد پرامن مظاہرین پیچھے ہٹ گئے اور ایک مسلح اور انتہا پسند گروہ نے جگہ لے لی جس نے سیکورٹی اہلکاروں اور شہریوں کو بے دردی سے نشانہ بنایا۔
2۔ ہنگاموں میں اسرائیل اور امریکہ کا ہاتھ نہیں تھا
سب سے پہلے اسرائیل اور امریکہ کے ملوث ہونے کا انکشاف ایرانی حکام نے نہیں بلکہ خود امریکی اور اسرائیلی ذرائع نے کیا۔ موساد کے فارسی سوشل میڈیا اکاؤنٹ اور یروشلم پوسٹ نے اعتراف کیا کہ ان کے ایجنٹ زمین پر موجود تھے۔ سابق سی آئی اے ڈائریکٹر مائیک پومپیو اور صدر ٹرمپ نے بھی کھلے عام ان مظاہروں کی حوصلہ افزائی کی اور مدد کا وعدہ کیا۔
3۔ حکام نے انٹرنیٹ مکمل بند کر دیا
8 جنوری کے بعد تشدد روکنے کے لیے مغربی ایپس اور میسنجر پلیٹ فارمز پر پابندیاں لگائی گئیں تاکہ شرپسندوں کا رابطہ ان کے غیر ملکی آقاؤں (مغربی یورپ اور اسرائیل) سے منقطع کیا جا سکے۔ یہ قدم قومی سلامتی کے لیے ضروری تھا اور اسے اب بتدریج بحال کیا جا رہا ہے۔
4۔ ایران میں 12,000 یا 16,500 مظاہرین مارے گئے
وہی میڈیا جو غزہ میں 71,000 شہداء کی فہرستوں کے باوجود شک کا اظہار کرتا ہے، ایران کے معاملے میں بغیر کسی ثبوت یا شناخت کے ہزاروں ہلاکتوں کے اعداد و شمار پیش کر رہا ہے۔ ایرانی حکام کے مطابق اصل تعداد ان مبالغہ آمیز نمبروں سے کہیں کم ہے اور اموات میں بڑی تعداد سیکورٹی فورسز کی ہے جو شرپسندوں کے ہاتھوں مارے گئے۔
5۔ ایرانی افواج نے مظاہرین کے خلاف کیمیائی ہتھیار استعمال کیے
یہ وہی پرانا مغربی بیانیہ ہے جو عراق، شام اور لیبیا پر حملوں کے لیے استعمال کیا گیا۔ 2022ء میں بھی اسکول کی طالبات کے حوالے سے ایسا ہی دعویٰ کیا گیا تھا جس کا کوئی ثبوت نہیں ملا، اور اب بھی “خودکار ہتھیاروں” اور کیمیائی مادوں کے استعمال کے دعوے سراسر بے بنیاد ہیں۔
6۔ لاشوں کی وصولی کے لیے خاندانوں کو ایک ارب تومان ادا کرنے پڑے
یہ ایک اور من گھڑت کہانی ہے جو ماضی میں بھی دہرائی گئی۔ کسی ایک خاندان نے بھی سامنے آ کر یہ دعویٰ نہیں کیا اور نہ ہی اس رقم کی ادائیگی کی کوئی رسید یا ثبوت موجود ہے۔ اتنی بڑی رقم نقد میں منتقل کرنا ناممکن ہے، لیکن میڈیا نے اسے بغیر تحقیق کے پھیلایا۔
7۔ ایرانی سپریم لیڈر ماسکو فرار ہونے کی تیاری کر رہے تھے؛ پھر انہیں ایئرپورٹ پر گولی مار دی گئی
برطانوی حکام کے اس جھوٹ کے باوجود کہ آیت اللہ خامنہ ای ماسکو فرار ہو رہے تھے، وہ اس کے بعد کم از کم تین بار عوامی سطح پر نظر آئے۔ 86 سالہ لیڈر ہفتے کے روز ہزاروں لوگوں سے ملے اور ان پر گولی لگنے کا کوئی نشان تک نہیں تھا۔ ایسے بیانیے کا مقصد صرف ایرانی سیکیورٹی فورسز کے حوصلے پست کرنا ہے۔
8۔ دیگر اعلیٰ حکام بھی ایران چھوڑ کر جا رہے ہیں
وزیر خارجہ عباس عراقچی اور سپیکر پارلیمنٹ قالیباف کے فرار ہونے کی خبریں بھی جھوٹی ثابت ہوئیں۔ یہ دعوے کہ ایرانی حکام وینزویلا یا روس منتقل ہو رہے ہیں، محض ڈس انفارمیشن مہم کا حصہ ہیں جبکہ تمام حکام تہران میں اپنی ذمہ داریاں نبھا رہے ہیں۔
9۔ ایرانی حکام ڈالر اور سونا دوسرے ممالک منتقل کر رہے ہیں
مغربی میڈیا نے دعویٰ کیا کہ ایئرپورٹس پر حکام کے سوٹ کیسوں میں ڈالر اور سونا دیکھا گیا، لیکن اس کی کوئی ایک ویڈیو یا تصویر بھی سامنے نہیں آئی۔ 2026ء کے دور میں دولت کی منتقلی کے لیے کرپٹو کرنسی جیسے آسان طریقے موجود ہیں، اس لیے سوٹ کیسوں والی کہانی محض فلمی منظر کشی معلوم ہوتی ہے۔
10۔ اسلامی جمہوریہ نے مظاہرین کو دبانے کے لیے غیر ایرانی فورسز کا استعمال کیا
دعویٰ کیا گیا کہ عراقی مزاحمتی گروہ ایران میں مداخلت کر رہے ہیں۔ یہ جھوٹ 2022ء میں بھی بولا گیا تھا۔ اس کا مقصد ایرانی عوام اور خطے کی مزاحمتی قوتوں کے درمیان دہائیوں پرانے یکجہتی کے تعلق کو توڑنا ہے۔ عراقی حکام نے ان دعووں کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے ثبوت کا مطالبہ کیا ہے۔
The post ایرانی ہنگاموں کے بارے میں مغربی میڈیا کے 10 بڑے جھوٹ appeared first on شیعہ نیوز پاکستان.


