شیعہ نیوز: ایران کے وزیر خارجہ نے سی این این کے ساتھ گفتگو میں کہا ہے کہ منصفانہ ایٹمی سمجھوتے کا حصول مختصر مدت میں ممکن ہے۔ ایران کے وزیر خارجہ سید محمد عباس عراقچی نے امریکی چینل سی این این کے ساتھ گفتگو میں اس بات کا ذکر کرتے ہوئے کہ مجھے اطمینان ہے کہ ایران کے ایٹمی پروگرام کے سلسلے میں ہم امریکہ کے ساتھ کسی سمجھوتے تک پہنچ سکتے ہيں۔ انہوں نے کہا کہ مذاکرات کے شریک کی حیثيت سے واشنگٹن ہمارے لئے ناقابل اعتماد ہے، لیکن دوست ممالک کے ذریعے پیغام کا تبادلہ مذاکرات کو نتیجہ خیز بنانے میں آسانیاں پیدا کرے گا۔ انہوں نے کہا کہ مذاکرات میں توجہ ایران کی ایٹمی صلاحیتوں پر مرکوز ہونی چاہیئے اور ناممکن مسائل پر بات نہیں کرنی چاہیئے اور موقع کو ضائع نہیں کرنا چاہیئے۔ عراقچی نے کہا کہ ایک ایسے منصفانہ معاہدے کا حصول کہ جو اس بات کی ضمانت دے کہ ہمارے پاس ایٹمی ہتھیار نہیں ہوں گے، مختصر وقت میں بھی ممکن ہے۔
ایرانی وزیر خارجہ نے کہا کہ تہران کو توقع ہے کہ امریکی پابندیاں اٹھا لی جائیں گی اور پرامن مقاصد کے لیے یورینیم کی افزودگی جاری رکھنے کے اس کے حق کا احترام کیا جائے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ اگر مذاکرات ناکام ہوئے تو ہم اپنے دفاع کے لیے تیار ہیں اور اگر جنگ ہوئی تو اس کا دائرہ ایران کی سرحدوں تک محدود نہيں رہے گا۔ عراقچی نے کہا کہ جنگ ہر ایک کے لیے تباہ کن ہوگی اور خطے میں امریکی اڈوں کو نشانہ بنایا جائے گا۔ سی این این کے نامہ نگار کے جواب میں عباس عراقچی نے کہا کہ میری رائے میں جنگ ناگزیر نہیں ہے اور اسے روکا جا سکتا ہے۔ دوسری بات یہ کہ ہمیں جنگ سے پریشانی نہیں ہے، کیونکہ ہم اس کے لیے پوری طرح تیار ہیں۔ ہم بارہ روزہ جنگ سے پہلے سے بھی زیادہ تیار ہیں۔ میرا ماننا ہے کہ جنگ کو روکنے کا بہترین طریقہ اس کے لیے تیاری کرنا ہے۔ جب میں کہتا ہوں کہ ہم جنگ کے لیے تیار ہیں تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ ہم جنگ چاہتے ہیں، بلکہ ہم جنگ کو روکنا چاہتے ہیں۔ میری بنیادی تشویش غلط معلومات پر مبنی غلط اندازے لگانا اور فوجی آپریشن انجام دینا ہے۔
یہ بات ہم پر واضح ہے کہ کچھ عناصر اور جماعتیں اپنے مفادات کے لیے صدر ٹرمپ کو اس جنگ میں گھسیٹنا چاہتی ہیں۔ میرے خیال میں صدر ٹرمپ صحیح فیصلہ کرنے کے لیے کافی سمجھ بوجھ رکھتے ہیں۔ عراقچی نے کہا کہ بامعنی مذاکرات اعتماد پر مبنی ہونے چاہئیں اور بدقسمتی سے، ہم نے ایک مذاکراتی فریق کے طور پر امریکہ پر اعتماد کھو دیا ہے اور اس کی وجہ واضح ہے۔ ہم نے دو ہزار پندرہ میں مذاکرات کیے تھے اور سب نے جے سی پی او اے معاہدے کا جشن منایا تھا، لیکن امریکہ بغیر کسی جواز کے اس معاہدے سے نکل گیا تھا۔ اگر ہم ماضی میں زیادہ دور نہ جائيں اور صرف گذشتہ سال پر نظر کریں تو دیکھیں گے کہ اس وقت کہ جب ہمارے مذاکرات جاری تھے، اسی وقت پہلے صیہونی حکومت نے اور پھر امریکہ نے ہمارے ملک پر حملہ کر دیا۔ اس لیے ہمارے پاس امریکیوں کے ساتھ مذاکرات کا کوئی مثبت یا اچھا تجربہ نہیں ہے۔
حقیقی گفت و شنید تک پہنچنے کے لیے اس بے اعتمادی کو دور کرنا ہوگا۔ اب خطے کے کچھ دوست ممالک ثالث کا کردار ادا کرکے اعتماد سازی کی کوشش کر رہے ہیں۔ یہ کام اگرچہ مشکل ہے، لیکن انجام پا رہا ہے۔ اگر امریکی مذاکراتی ٹیم جوہری ہتھیاروں کے حصول کو روکنے کے مقصد سے معاہدے تک پہنچنے کے لیے صدر ٹرمپ کی باتوں پر عمل کرتی ہے تو سمجھوتے تک پہنچنا ممکن ہے۔ وزیر خارجہ نے سی این این کے رپورٹر کو مخاطب کرکے کہا: “آپ جانتے ہیں کہ ایران پر جون کا حملہ ایک ناکام آپریشن تھا، وہ پہلے سے طے شدہ اہداف میں سے کوئی حاصل نہیں کرسکے اور آخرکار 12 دن کے بعد وہ جنگ بندی کا مطالبہ کرنے پر مجبور ہوئے، اگر اس جنگ کو دہرایا گیا تو میں سمجھتا ہوں کہ وہی ناکامی اور وہی نتیجہ دہرایا جائے گا۔ خاص طور پر اس بار ہم زیادہ تیار ہیں اور ہم نے ماضی کی جنگ اور میزائل کے تجربے سے اچھا سبق سیکھا ہے، اب ہماری جنگ کے اچھے تجربات ہمارے کام آئیں گے۔
ہماری صلاحیتیں قائم ہیں، ہم نے اپنی طاقت کا جائزہ لیا ہے اور یہ سب سے واضح پیغام ہے، جو ہم امریکہ کو دے سکتے ہیں: اگر کوئی حملہ ہوتا ہے تو ہم یقینی طور پر ایک چونکا دینے والا اور بہت طاقتور جواب دیں گے، ہمیں امید ہے کہ عقلانیت غالب آئے گی اور ان چیزوں کی ضرورت نہیں پڑے گی۔ رپورٹر نے عراقچی سے پوچھا: کیا حزب اللہ اور حوثیوں کی مزاحمت کا محور بھی کارروائی کرے گا۔؟ عراقچی نے جواب دیا: ہم اپنے دفاع کی صلاحیت رکھتے ہیں اور ہمیں کسی کی ضرورت نہیں ہے۔ سی این این کے ترک رپورٹر نے عراقچی سے کہا: آپ نے پریس کانفرنس میں کہا کہ ایران اپنے دفاعی نظام کو مضبوط کرے گا۔ آپ کا صحیح منصوبہ کیا ہے۔؟ کیا آپ کو روس اور چین سے فوجی مدد ملی ہے یا ملے گی۔؟ عراقچی نے کہا: کیا آپ واقعی مجھ سے اس سوال کے جواب کی توقع رکھتے ہیں۔؟ رپورٹر نے کہا: ہاں۔ عراقچی نے کہا: میں جواب دینا پسند نہیں کرتا ہوں۔
رپورٹر نے پوچھا: کیا آبنائے ہرمز کو بند کرنا بھی ایک آپشن ہے۔؟ عراقچی نے کہا: بہت سے آپشن اور اختیارات ہیں۔ رپورٹر نے پوچھا کیا ایرانی حکومت اور نظام ردعمل کی یر قسم پر متفق ہیں۔؟ عراقچی نے کہا: یقیناً تمام ایرانی متفق ہیں۔ رپورٹر نے پوچھا: فی الحال، یہ کہا جاتا ہے کہ آٹھ امریکی طیارہ بردار بحری جہاز خطے میں ایران کے لیے خطرہ ہیں۔ بعض یورپی ممالک کی تعیناتی کی بھی خبر ہے۔ آپ کی انٹیلی جنس رپورٹیں اس امریکی فوجی نقل و حرکت کے بارے میں کیا کہتی ہیں۔؟ وہ کس چیز کی تیاری کر رہے ہوں گے؟ اور کیا آپ کے پاس ایرانی حکام کے خلاف قتل کی سازشوں کے بارے میں بھی معلومات ہیں۔؟ عراقچی نے واضح کیا ہم تمام منظرناموں کا جائزہ لے رہے ہیں اور ان سب کے لیے خود کو تیار کر رہے ہیں۔ رپورٹر نے پوچھا: “کیا اس کا مطلب ہے کہ آپ ڈرتے نہیں۔؟” عراقچی نے جواب دیا: “نہیں۔” ہم ڈرتے نہیں۔
The post ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی کا سی این این کے ساتھ اہم انٹرویو appeared first on شیعہ نیوز پاکستان.


