شیعہ نیوز: وزیر خارجہ سید عباس عراقچی نے الجزیرہ کے ساتھ گفتگو میں کہا ہے کہ ضرورت پڑنے پر وہ ایران کے لئے جان بھی دے سکتے ہیں۔ وزیر خارجہ سید عباس عراقچی سے الجزیرہ ٹی وی نے امریکا اور غاصب صیہونی حکومت کے حملوں کے بارے میں انٹرویو لیا۔ وزیر خارجہ سید عباس عراقچی نے اس انٹرویو میں کہا کہ پتہ نہیں امریکا اور اسرائیل اب تک کیوں نہیں سمجھ سکے ہیں کہ اسلامی جمہوریہ ایران کا سیاسی ڈھانچہ بہت مضبوط ہے جو محکم بنیادوں پر استوار ہے۔ انہوں نے اس انٹرویو میں کہا کہ ہم اپنے ملک کے اہداف و مفادات کے لئے جدوجہد کررہے ہیں، اپنی جگہ پر ڈٹے ہوئے ہیں اور دیگر حکام کی طرح ضرورت پڑنے پر اس راہ میں اپنی جان بھی فدا کرسکتے ہیں۔
اسلامی جمہوریہ ایران کے وزیر خارجہ نے کہا کہ اب تک 53 اسپتال اور بہت سے اسکول دشمنوں کے حملوں کا نشانہ بن چکے ہیں، بہت سی رہائشی عمارتوں پر بھی حملے ہوچکے ہیں اور دشمن بہت سے سیاستدانوں، غیر فوجی شخصیات، سائنسدانوں اور یونیورسٹی اساتذہ کو بھی دہشت گردانہ حملوں میں شہید کرچکا ہے۔ انھوں نے الجزیرہ ٹی وی کے ساتھ اس گفتگو میں، جنگ کے علاقے میں پھیل جانے کے بارے میں کہا کہ ہم نے جنگ نہیں پھیلائی ہے، جنگ کی سرشت یہی ہے اور اس بات کی جانب سے ہم نے خطے میں اپنے دوستوں کو پہلے ہی خبردار کردیا تھا۔
وزیر خارجہ سید عباس عراقچی نے کہا جب امریکا ہم پر حملے کرتا ہے تو، چونکہ ہمارے ڈرون اور میزائل امریکا تک نہیں پہنچ سکتے، اس لئے ہم مجبور ہیں کہ علاقے میں اس کے فوجی اڈوں اور اس کی فوج کے اقتصادی مراکز کو اپنے جوابی حملوں میں نشانہ بنائیں اور افسوس کی بات ہے کہ یہ اڈے اور اقتصادی مراکز پورے علاقے میں ہمارے دوست ملکوں میں پھیلے ہوئے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ ہمیں واقعی حیرت ہے کہ دنیا ایران کے رہائشی علاقوں پر امریکا اور صیہونی حکومت کے حملوں کے بارے میں بات کیوں نہیں کرتی؟ لیکن ہم پورے وثوق سے کہتے ہیں کہ ہم نے پڑوسی ملکوں کے غیر فوجی مراکز کو نشانہ نہیں بنایا ہے۔
The post ضرورت پڑنے پر جان بھی فدا کرسکتا ہوں، عباس عراقچی appeared first on شیعہ نیوز پاکستان.


