spot_img

ذات صلة

جمع

ملک کو حاصل افتخار اپنے سائنسدانوں کے مرہون منت ہے: صدر پزشکیان

تہران/ ارنا- صدر مملکت ڈاکٹر مسعود پزشکیان نے کہا...

“جاں فدا” وطن کی لڑکیوں کا پریڈ

گزشتہ جمعے 17 اپریل سن 2026 کو تہران کے...

ایران کی بحری ناکہ بندی، امریکا کا اپنے لیے کھودا ہوا گڑھا | تحریر: اکبر عیسیٰ زادہ

شیعہ نیوز:چند دن قبل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا کہ ہم ایران کی بحری ناکہ بندی کرنے جا رہے ہیں اور وہ تا حال اس اعلان کو عملی جامہ پہنانے کے درپے ہے۔ وہ اس سے قبل ایران کے جوہری پروگرام کے جامع معاہدے کا مسودہ پھاڑ چکے ہیں۔ پھر یروشلم پر قابض اسرائیلی ریاست کے ساتھ مل کر دو مرتبہ مذاکرات کے دوران بلاجواز و غیرقانونی جارحیت انجام دینے کے بعد چند روز قبل ہی ان کے نائب صدر نے پاکستان کی ثالثی کے تحت ہونے والے مذاکرات کو کچھ اس انداز میں ناکام بنایا کہ انہوں نے شرائط و فرمائشوں کا انبار لگا کر مذاکرات کی میز چھوڑ دی اور ایک مرتبہ پھر یہ ثابت کر دیا کہ وہ دھونس جمانے کو سفارتکاری پر ترجیح دیتے ہیں۔ اسلام آباد مذاکرات شروع ہونے سے پہلے ٹرمپ نے سرتوڑ کوششیں کیں کہ دو دن، ایک ہفتے یا دس روز کی مہلت دے کر یا پھر اسلامی جمہوری ایران کے انفرااسٹرکچر اور ایرانی تمدن کو تباہ کر دینے کی دھمکیاں دے کر ایران کو امریکی مطالبات ماننے اور آبنائے ہرمز کو کھول دینے پر مجبور کرے، لیکن ایسا نہیں ہو سکا۔ یہاں تک کہ اس بار ٹرمپ نے آبنائے ہرمز بند رکھے جانے کے مقابلے میں ایران کی بحری ناکہ بندی کا ارادہ ظاہر کیا ہے۔

یہ بحری ناکہ بندی ایک ہتھیار ہے، جس کا ہدف و مقصد یہ ہے کہ ایران پر زیادہ سے زیادہ دباؤ ڈال کر اسے امریکی حکومت کی فرمائشوں کی ایک طویل فہرست مان لینے پر مجبور کیا جائے۔ یہ ناکہ بندی ایک پائیدار اور مؤثر حکمت عملی سے زیادہ ایک انتہائی مہنگا پاور شو ہے، جو پورے خطے کو مہنگائی کے ایک خطرناک مرحلے تک لے جائے گا۔ اس لیے کہ سمندری سیکیورٹی ایک ایسا جامع نیٹ ورک ہے، جس میں کسی بھی قسم کا خلل پیدا ہونے سے خطے کے تمام ممالک کو جلدی یا دیر سے بھاری نقصان اٹھانا پڑے گا۔ اس بحری ناکہ بندی کے خاکے کو عملی جامہ پہنانے کیلئے ضروری ہے کہ امریکی بحری بیڑے غیر معینہ مدت تک سمندر میں موجود رہیں۔ یہ اپنی نوعیت میں بہت مہنگی اسٹریٹجی ہے اور پھر اگر اس بحری ناکہ بندی کو مزید مؤثر بنانے کی غرض سے امریکی بحری بیڑے ایران کی سمندری حدود کے قریب بھی پھٹکے تو وہ ایران کے میزائل اور ڈرونز کے نشانے پر ہوں گے اور اگر ایرانی سمندری حدود سے دور ہوئے تو اس ناکہ بندی کو اتنے وسیع و عریض علاقے تک جاری رکھنا ویسے ہی بہت دشوار ہوگا۔

اس امریکی اقدام کا عملی مرحلہ بحری جہازوں کی حرکت پر نظر رکھنا، انہیں راستہ بدلنے نہ دینا، ان کی تلاشی اور انہیں روک لینے پر مشتمل ہے۔ ایسے تمام بحری جہاز جو ایرانی بندرگاہوں سے روانہ نہیں ہو رہے یا جن کی منزل مقصود ایرانی بندرگاہیں نہ ہوں اور وہ صرف آبنائے ہرمز سے گذرنے کا ارادہ رکھتے ہوں، وہ اس بحری ناکہ بندی سے محفوظ ہوں گے۔امریکی سینٹرل کمانڈ نے اپنے بیان میں خلیج فارس کا اصلی نام درست انداز میں نہیں لیا۔ اس سے قطع نظر کسی ملک کی بحری ناکہ بندی کرنا بین الاقوامی قوانین کے ساتھ کھلا تضاد رکھتا ہے۔ اس بحری ناکہ بندی کا مقصد ایران کی برآمدات میں خلل ایجاد کرنا ہے، جبکہ ایران نے قلیل مدتی سپلائی کو بحال رکھنے اور متبادل تجارتی و معاشی راستوں کو استعمال میں لانے میں کافی حد تک پیشرفت کے ساتھ ساتھ برآمدات کی بڑھوتری کیلئے بالواسطہ نیٹ ورکس کو استعمال کرنے کی روش اپنا لی ہے۔ لہٰذا کسی بھی قسم کی بحری ناکہ بندی خطے کے ممالک کی معیشت اور تجارت کو متاثر کرے گی اور یہ بحران توانائی کی عالمی منڈیوں میں طلب اور رسد کے توازن میں عدم استحکام کا باعث بنے گا۔

یہ بھی پڑھیں : جیکب آباد، رہبر انقلاب شہید آیت اللہ خامنہ ای کی یاد میں تکریم شہداء کنونشن کا انعقاد

مجموعی شواہد یہ ظاہر کرتے ہیں کہ ایک ہی وقت میں توانائی کی برآمدات میں خلل، تیل کی قیمتوں میں ہوشربا اضافہ، مالیاتی منڈی میں عدم استحکام، سیاسی صف بندیوں میں دراڑیں اور عالمی تجارت و معیشت میں بڑی بڑی تبدیلیاں ایک خطرناک اور کثیرالجہتی مرحلے میں داخل ہو چکی ہیں۔ اگر یہی صورتحال جاری رہی تو توانائی کی عالمی منڈیاں اور عالمی معیشت کا ارتقاء شدید متاثر ہو سکتا ہے۔ بحری ناکہ بندی ایک محدود سطح کا اقدام نہیں ہے بلکہ ایک خطرناک اور مہنگا کھیل ہے، جس کے نقصانات خطے کے اہم ممالک اور عالمی معیشت دونوں کو جھیلنے ہوں گے۔ اس صورتحال کے پیش نظر خطے کے بعض ممالک، اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل اور چین کی طرف سے اسلام آباد میں ہونے والے مذاکرات کے دوسرے دور کے انعقاد کا دعوی کیا جا رہا ہے اور اس کے امکانات کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔ ثالثی کرنے والے ممالک کا اسلامی جمہوریہ ایران سے اصرار ہے کہ ایران تحمل کا مظاہرہ کرے اور خلیج عمان میں امریکی بحری بیڑوں کو نشانہ بنانے، آبنائے ہرمز کو مکمل طور پر بند رکھنے اور باب المندب کی سرگرمیوں میں خلل پیدا کرنے جیسی انتقامی کاروائیاں کرنے سے گریز کرے۔

ایران کے صدر ڈاکٹر مسعود پزشکیان نے ایران کی بحری ناکہ بندی کی دھمکی کے جواب میں اعلان کیا کہ ایران نے ہمیشہ اس اسٹریٹجک سمندری راستے سے بحری جہازوں کی محفوظ آمد و رفت کو یقینی بنانے کی کوشش کی ہے۔ انہوں نے تاکید کی ہے کہ علاقائی سلامتی کو پیش آنے والا کوئی بھی خطرہ عالمی تجارت کیلئے وسیع نقصانات کا حامل ہوگا۔ اس کے باوجود ایران اپنے قومی مفادات کو سامنے رکھتے ہوئے کسی بھی صورت حال کا سامنا کرنے کیلئے پوری طرح تیار ہے۔ ایران کے صدر نے خطے میں امن و امان کی فضا قائم رکھنے اور اپنے پڑوسیوں کے ساتھ تعمیری روابط کو فروغ دینے پر مشتمل ایران کی بنیادی ترین پالیسی کا اعادہ کرتے ہوئے مزید کہا کہ دھمکیوں، دباؤ اور فوجی کارروائیاں نہ صرف یہ کہ مسائل کو حل نہیں کرتیں، بلکہ انہیں مزید پیچیدہ بناتی ہیں اور فی الحال امریکی فریق کے خود ساختہ مسائل کو مزید بڑھاوا دے رہی ہیں۔

تحریر: اکبر عیسیٰ زادہ (ایرانی قونصل جنرل، کراچی)

The post ایران کی بحری ناکہ بندی، امریکا کا اپنے لیے کھودا ہوا گڑھا | تحریر: اکبر عیسیٰ زادہ appeared first on شیعہ نیوز پاکستان.

​ 

spot_imgspot_img