شیعہ نیوز: کچھ عرصے سے خواہش تھی کہ موجودہ حالات ہر لکھا جائے مگر سید کی شہادت نے دل اچاٹ سا کر دیا۔ ایک عجیب سی ویرانی، ایک انجانی سی وحشت اور گہرا سا اضمحلال دل و دماغ پر طاری ہے۔ مگر جب اپنے اطراف میں نظر دوڑاتا ہوں تو ورطہ حیرت میں چلا جاتا ہوں کہ دست قاتل نے جس خون کو مقتل میں چھپانا چاہا وہی آج ہر سو امید، امنگ اور بہتری کی نوید بن کر افقِ عالم پر درخشاں ہے۔
یوں محسوس ہوتا ہے کہ ملتِ اسلامیہ ایک جسدِ واحد کی صورت اختیار کر گئی ہے۔ مومنین اور ان کی قیادتیں محبت سے لبریز، وحدت کے پیامبر بنے، ایک دوسرے کی جانب دستِ تعاون بڑھاتی دکھائی دیتی ہیں۔ یہ فیض کسی موجودہ یا عارضی قیادت کا مرہونِ منت نہیں، بلکہ سید خامنہ ای کے خونِ اقدس و مطہر کی تاثیر ہے کہ جو ایک نئی روح، ایک نئی بیداری کو جنم دے رہی ہے۔
سید، بظاہر رخصت ہو کر بھی اپنی قوم کے لیے متحرک اور فیصلہ ساز قوت بنے ہوئے ہیں۔
سلام ہو آپ پر، اے سید و سردار۔۔۔ ہم یقیناً اس اعتبار سے محروم رہے کہ امام حسینؑ کے عہدِ مبارک میں نہ تھے، مگر یہ ہماری خوش نصیبی ہے کہ آج “حسینی” کے دور میں سانس لے رہے ہیں جہاں حسینی فکر جلوہ گر ہے۔ ہم اپنی آنکھوں سے حسینیت کی جھلک دیکھ رہے ہیں، اور وہی نور ہمارے دلوں اور بصیرتوں کو منور کر رہا ہے۔
گزشتہ چند دنوں میں کچھ خوشگوار واقعات رونما ہوئے ہیں کہ شیعہ قیادتیں باہمی شیر و شکر ہوتی نظر آ رہی ہیں۔ اس کے پسِ پردہ عوامل جو بھی ہوں، ہمارے لیے یہ پیش رفت باعثِ تسکین اور امید ہونی چاہیے کہ دیر سے ہی سہی، قیادتوں نے قوم کے درد کو محسوس کیا۔ اس لمحۂ موجود میں اتحاد و وحدت کا ہر جذبہ لائقِ تحسین و توصیف ہے، اور ایسی ہر کوشش ہمارے سلام کی مستحق ہے۔
میں نے ذاتی طور پر بھی اس عظیم کار وحدت میں گزشتہ کئی سالوں میں کئی دفعہ اپنا حصہ ڈالنے کی کوشش کی۔ جب نفرت اور الزامات کے شور میں محبت کی یہ مدھم دھن سننے کی آمادگی کم تھی، تب بھی میں نے آوازِ اتحاد بلند کی اور قیادتوں و ان کے نمائندگان سے مل کر اپنا فرض ادا کیا۔ مجلس وحدت کے شوری عالی کے بیشتر ارکان، سیکرٹری سیاسیات، آئی ایس کے مرکزی دوستان، برادر رضوان عابدی حتی سید جواد نقوی صاحب اس کے گواہ ہیں۔
اب جبکہ فضا سازگار ہوتی دکھائی دے رہی ہے تو یہی کہا جا سکتا ہے: دیر آید، درست آید۔
تاہم یہ نہایت ضروری ہے کہ چند معروضات آپ کے سامنے پیش کی جائیں اور انہیں تاریخ کے تناظر میں بھی رکھا جائے، تاکہ یہ وحدت کا ماحول محض وقتی جذبات کی رو نہ ہو بلکہ دیرپا اور پائیدار بنیادوں پر استوار ہو سکے
1- ایم ڈبلیو ایم کے مرکزی و سرکردہ رہنماؤں سے گزشتہ کئی ماہ کے دوران ہونے والی گفتگو سے یہ امر میرے ذاتی علم میں آیا ہے کہ جماعت کی قیادت ایک عرصے سے فضاۓ وحدت کے قیام کے لیے عملاً کوشاں رہی ہے۔ اس کا باقاعدہ آغاز عمران خان کے دور میں سلیبس کی تبدیلی سے ہوا، جو وقتاً فوقتاً آگے بڑھتی رہی۔ اس کا نمایاں عملی اظہار علامہ راجہ ناصر عباس صاحب کی اس فعال اور پیش قدمی پر مبنی کاوشوں میں نظر آتا ہے، کہ وہ خود آگے بڑھ کر ہر در تک پہنچے اور رابطے استوار کیے۔ علامہ راجہ ناصر عباس صاحب کی اس نیک نیتی کا جائز کریڈٹ انہیں ملنا چاہیے
2- علامہ جواد نقوی صاحب نے بھی اس موقع پر کسی پس و پیش سے کام لیے بغیر آگے بڑھ کر اس جذبے کو مہمیز کیا وہ بھی خراج تحسین کے مستحق ہیں
3- علامہ حافظ ریاض حسین صاحب اور ساجد نقوی صاحب نے بھی بزرگواری کا مظاہرہ کیا۔ جزاک اللہ خیر ۔۔۔
آیئے اب اُن اہم مگر قدرے نازک نکات کو آپ کی خدمت میں پیش کیا جائے، جن کی نشان دہی ضروری ہے، تاکہ یہ واضح ہو سکے کہ وحدت کی یہ حسین کاوشیں کس طرح سبوتاژ ہو رہی ہیں یا آئندہ ہو سکتی ہیں
یہ بھی پڑھیں : سگی ماں کے ہاتھوں تین پھول جیسےبچوں کے لرزہ خیز قتل کی تفتیش میں ہولناک انکشافات سامنے آگئے
1- چند افراد کی طرف سے کاپی پیسٹ میسجز کی صورت میں یہ کوشش کی جا رہی ہے کہ علامہ ساجد نقوی صاحب کی قیادت یا اطاعت کو وحدت کو واحد حل بنا کر پیش کیا جائے جو ہماری نظر میں موجودہ وحدت کے خوبصورت ماحول کیلئے زہر قاتل ہے۔ اس وقت عملی طور پر جو قیادتیں موجود ہیں ان کے وجود کو تسلیم کیے بغیر وحدت کی بیل منڈھے نہیں چڑھے گی
راجہ ناصر صاحب قوم کےحقوق کیلئے ایک موثر آواز بن کر سامنے آئے اور انقلابی طبقات کیلئے ایک قیادت فراہم کی اور سیاسی میدان میں پہلی دفعہ تشیع کیلئے بہترین کامیابیاں سمیٹیں۔ وہ خود سینٹ میں اپوزیشن لیڈر ہیں جو اپنی نوعیت کا ایک تاریخی اور پہلی بار پیش آنے والا واقعہ ہے ان سے سیاسی اختلاف رکھنے والے بھی بہرحال موجود ہیں مگر ان کی کامیابیاں ہی ان کا بہتر جواب ہیں ۔
اسی طرح علامہ جواد نقوی صاحب اپنی وسیع عوامی پذیرائی، درجنوں مدارس کی سرپرستی، بیداریِ امت تنظیم کی قیادت اور تشیع پاکستان میں ایک مؤثر فکری و عملی آواز کے طور پر اپنی پہچان رکھتے ہیں۔
علامہ ساجد نقوی صاحب اگرچہ موجودہ فعالیت کے لحاظ سے مختلف آرا کا موضوع ہیں، تاہم وہ قومی افق پر ایک موجود حقیقت ہیں اور ان کے اپنے پیروکار بھی موجود ہیں۔ لہٰذا انہیں نظرانداز کر کے وحدت کے حقیقی ثمرات کا حصول ممکن دکھائی نہیں دیتا۔
1- یہ نکتہ سمجھنا نہایت اہم ہے کہ وحدت کا مطلب مختلف تنظیموں کو ضم کر کے ایک ہی ڈھانچے میں لے آنا نہیں، بلکہ ہر تنظیم کے وجود کو تسلیم کرتے ہوئے کم ازکم مشترکہ ایجنڈے پر متفق ہونا، اختلافی و افتراقی امور کو پسِ پشت ڈالنا اور مشترکات کی بنیاد پر مشترکہ جدوجہد کو آگے بڑھانا ہے۔
علامہ ساجد نقوی صاحب، علامہ راجہ ناصر صاحب اور علامہ جواد نقوی صاحب اگر باہمی احترام کے ساتھ قومی مفاد میں مشترکات پر مبنی جدوجہد کا اعلان کریں تو یہی حقیقی اتحاد ہے۔ اس کے برعکس اگر اس ماحول کو کسی ایک فرد یا گروہ کی قیادت منوانے کے لیے استعمال کیا جائے تو یہ وحدت کے بنیادی مقصد سے انحراف کے مترادف ہوگا۔ قوم اس صورتِ حال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے۔
2- جامعہ المنتظر میں منعقد ہونے والا پروگرام جہاں اپنی اصل روح کے اعتبار سے قابلِ ستائش تھا، وہیں اس میں سٹیج پر ایک اضافی کرسی رکھے جانے سے ایک غیر ضروری تنازعہ جنم لیتا محسوس ہوا، جس سے بآسانی اجتناب کیا جا سکتا تھا۔ بہتر صورت یہ ہوتی کہ یا تو تمام قائدین کو سٹیج پر بٹھا کر یکساں طور پر عزت افزائی کی جاتی، یا پھر سبھی نیچے نشست اختیار کرتے۔
کوئی اسے تسلیم کرے یا نہ کرے، اس طرزِ عمل سے وحدت کا ماحول مکدر ہوا۔ بہرحال، گزشتہ را صلوات، اور آئندہ را احتیاط۔ ہمیں آگے بڑھنا چاہیے، اور اس فضا کو مزید بگاڑ سے بچاتے ہوئے اتحاد کے سفر کو جاری رکھنا چاہیے۔
3- اسی طرح جب بزرگان کی طرف سے مینار پاکستان پر قومی اجتماع کی بات کی گئی تو ایک تنظیم کی طرف سے ایک ویڈیو میں ایک ڈیٹ دے کر ساجد نقوی صاحب سے اس تاریخ پر مینار پاکستان پر اجتماع کرنے کا کہنا اس وحدت کو توڑنے کی کوشش ہی ہے۔ یہ اعلان کسی ایک تنظیم کی طرف سے ہوا تو قومی اجتماع بھی نہیں بن سکے گا اور وحدت پر بھی کاری ضرب لگے گی۔
4- ایک اہم نکتہ یہ بھی ہے کہ ہمیں اپنی اپنی قیادتوں کا احترام یقیناً ملحوظِ خاطر رکھنا چاہیے، تاہم انہیں احتساب سے بالاتر سمجھ کر درجۂ عصمت پر فائز نہیں کرنا چاہیے۔ یہی طرزِ فکر اور کج فہمی ہماری قومی ارتقا کے راستے کی ایک بڑی رکاوٹ ہے۔ قیادت سے ان کی کارکردگی کے حوالے سے سوال اٹھانے اور مثبت احتساب کے رجحان کی حوصلہ افزائی ہی کے ذریعے ہم قومی بہتری اور ترقی کی امید رکھ سکتے ہیں، ورنہ ۔۔۔۔۔
ہماری داستان تک نہ ہو گی داستانوں میں
آخری بات:
ہماری نظر میں تمام تنظیموں کو فوری طور پر ایک مشترکہ کمیٹی قائم کرنی چاہیے، جو وحدت کو نقصان پہنچانے والی ہر منفی کوشش کی بروقت بیخ کنی کرے۔ یہ کمیٹی مشترکہ امور پر ایک جامع لائحۂ عمل تیار کرے اور قیادتوں کی منظوری کے بعد اسے ایک متفقہ پلیٹ فارم سے قوم کے سامنے پیش کیا جائے، تاکہ اتحاد کی یہ فضا مستحکم اور پائیدار بن سکے۔
تبرید حسین(لندن)
25 اپریل 2026
The post وحدت کی کاوش کیسے سبوتاژ ہو سکتی ہے | تحریر: تبرید حسین (لندن) appeared first on شیعہ نیوز پاکستان.


