spot_img

ذات صلة

جمع

مقبوضہ مغربی کنارے میں اسرائیلی منصوبوں کا ہدف فلسطینی وجود اور انسان ہے، حماس

شیعہ نیوز: اسلامی مزاحمتی تحریک حماس کے رہنما عبدالرحمن شدید نے مقبوضہ مغربی کنارے، مقبوضہ بیت المقدس اور دیگر تمام علاقوں میں فلسطینی شہریوں کے صمود اور ثابت قدمی کو مضبوط بنانے کی اپیل کی ہے تاکہ اسرائیل اور وحشی آباد کاروں کے مذموم منصوبوں کو ایک ہمہ گیر مقابلے کے ذریعے ناکام بنایا جا سکے۔

عبدالرحمن شدید نے منگل پانچ مئی سنہ 2026ء کو حریہ نیوز کی جانب سے نقل کیے گئے پریس بیانات میں مقبوضہ مغربی کنارے، مقبوضہ بیت المقدس اور پورے فلسطین میں زمین اور انسان کو نشانہ بنانے والی صہیونی پالیسیوں کا مقابلہ کرنے کے لیے عوامی اور قومی یکجہتی کی اہمیت پر زور دیا۔

انہوں نے تمام فلسطینی قوتوں اور گروہوں سے مشترکہ جدوجہد کا مطالبہ کیا تاکہ چیلنجوں کا مقابلہ کرنے کے لیے فلسطینی عوام کی صلاحیتوں میں اضافہ کیا جا سکے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ قومی صفوں کا اتحاد اس مرحلے میں طاقت کا بنیادی عنصر ہے جبکہ داخلی تقسیم خطرات کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت کو کمزور کر دیتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں : مقبوضہ بیت المقدس کے مسیحیوں کے خلاف اسرائیل کے منظم حملوں پر عیسائی پادری کی وارننگ

رہنما عبدالرحمن شدید نے اس بات کی تصدیق کی کہ فلسطینی عوام آج ایک ایسے نازک موڑ پر کھڑے ہیں جہاں مشترکہ قومی عمل کو مضبوط بنانا اور فلسطینی کاز کے گرد گھیرا ڈالنے والے چیلنجوں کے خلاف کوششوں اور موقف کو متحد کرنا ناگزیر ہو چکا ہے۔ عبدالرحمن شدید نے کہا کہ مقبوضہ مغربی کنارے، مقبوضہ بیت المقدس اور غزہ کی پٹی کی تیزی سے بدلتی ہوئی صورت حال کے پیش نظر قومی ہم آہنگی کی ضرورت اب پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ گئی ہے۔

انہوں نے اپنی بات جاری رکھتے ہوئے کہا کہ صفوں کی وحدت قومی حقوق کے تحفظ کے لیے ایک بنیادی ستون ہے اور موجودہ مرحلہ ایک ایسے متحد قومی موقف کا تقاضا کرتا ہے جو سیاسی و میدانی خطرات سے نمٹنے کی بھرپور صلاحیت رکھتا ہو۔ انہوں نے مزید کہا کہ اجتماعی جدوجہد ہی ان چیلنجوں کا مقابلہ کرنے کا سب سے مؤثر طریقہ ہے۔

عبدالرحمن شدید نے غزہ میں فالو اپ کمیٹی کی جانب سے قومی اور اسلامی تنظیموں کے جنرل سیکرٹریزکے اجلاس کے لیے دی جانے والی دعوت کی جانب توجہ مبذول کرواتے ہوئے اسے قومی مکالمے کی مضبوطی کی طرف ایک اہم قدم قرار دیا۔ انہوں نے خبردار کیا کہ یہ دعوت ایک حساس وقت اور ایسے حالات میں دی گئی ہے جو تمام فلسطینی قوتوں کے درمیان اعلیٰ درجے کی قومی ذمہ داری اور اتفاق رائے کا تقاضا کرتے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ حماس نے داخلی فلسطینی گھرانے کی ترتیب نو کے لیے کی جانے والی ہر کوشش کو کامیاب بنانے کی اپنی تڑپ کے پیش نظر، مزاحمتی تنظیموں کے ہمراہ پہلے ہی لمحے سے اس دعوت کا خیرمقدم کیا ہے۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ اس وقت تنظیموں کے درمیان اس دعوت کو ایک عملی ملاقات میں بدلنے کے لیے مشاورت جاری ہے تاکہ ایک ایسے ایجنڈے پر اتفاق کیا جا سکے جو فلسطینی عوام کی ترجیحات کا عکاس ہو۔

عبدالرحمن شدید نے بتایا کہ اس ملاقات کا مقصد قومی وحدت کو فروغ دینا، موقف میں ہم آہنگی پیدا کرنا اور فلسطینی کاز کی خدمت کے لیے مستقبل کے اقدامات کا تعین کرنا ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ تمام تنظیموں نے اس دعوت کا خیرمقدم کیا ہے اور اب ضرورت اس بات کی ہے کہ اس خیرمقدم کو ٹھوس عملی اقدامات میں تبدیل کیا جائے۔

حماس نے ایک بار پھر اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ فلسطینی عوام اپنا اسلحہ چھوڑنے کے لیے ہرگز تیار نہیں ہیں، کیونکہ یہ حق تمام بین الاقوامی قوانین اور آسمانی شریعتوں میں تسلیم شدہ ہے۔ عبدالرحمن شدید کے بیانات کے مطابق فلسطینی عوام یہ اسلحہ اس قابض اسرائیل کے خلاف اپنے دفاع کے لیے استعمال کرتے ہیں جو آج پوری دنیا کی آنکھوں کے سامنے انسانی تاریخ کی بدترین اور خوفناک ترین نسل کشی کا ارتکاب کر رہا ہے۔

عبدالرحمن شدید نے واضح کیا کہ حماس اور مزاحمتی ونگز کا موقف یہ ہے کہ اسلحہ فلسطینی عوام کا ایک ثابت قدم حق ہے اور کوئی بھی تنظیم اس سے دستبردار ہونے کا اختیار نہیں رکھتی۔ یہ حق فلسطینی سرزمین پر قابض اسرائیل کے وجود اور ہمارے عوام کے سیاسی و قومی حقوق کی بحالی سے جڑا ہوا ہے۔

حماس اور مزاحمت نے ثالثوں کو مطلع کر دیا ہے کہ اسلحے کے معاملے کو ایک جامع قومی وژن کے تحت حل کیا جا سکتا ہے، جو فلسطینی عوام کے بنیادی اصولوں پر مبنی ہو اور جس کا نتیجہ فلسطینیوں کے سیاسی و قومی مفادات کے حصول، بالخصوص آزاد ریاست کے قیام اور حق خودارادیت کی صورت میں نکلے۔

حماس کے رہنما نے مزید کہا کہ ان اہداف کے حصول کے بغیر فلسطینی اپنا اسلحہ نہیں چھوڑیں گے، خاص طور پر جب قابض اسرائیل زمین پر موجود ہے اور وہ مقبوضہ بیت المقدس کو یہودیانے، مقبوضہ مغربی کنارے اور غزہ میں روزانہ قتل و غارت گری اور غزہ کی پٹی میں خاموش نسل کشی، بھوک، محاصرے اور زخمیوں و مریضوں کے سفر پر پابندی جیسے منصوبوں پر عمل پیرا ہے۔

انہوں نے واضح کیا کہ یہ ہرگز قبول نہیں کیا جا سکتا کہ فلسطینی عوام اپنا اسلحہ حوالے کر دیں جبکہ قابض اسرائیل لاکھوں آباد کاروں کو مسلح کر رہا ہے اور انہیں مقبوضہ مغربی کنارے میں روزانہ کی بنیاد پر قتل، نذر آتش کرنے اور جارحیت جیسے جرائم کی کھلی چھوٹ دے رہا ہے۔

واضح رہے کہ مقبوضہ مغربی کنارے اور مقبوضہ بیت المقدس میں قابض اسرائیل کی افواج اور آباد کاروں کی سفاکیت میں میدانی سطح پر نمایاں اضافہ دیکھا جا رہا ہے، جس میں چھاپہ مار کارروائیاں، فوجی چوکیوں کا قیام، گرفتاریاں اور جھڑپیں شامل ہیں۔

The post مقبوضہ مغربی کنارے میں اسرائیلی منصوبوں کا ہدف فلسطینی وجود اور انسان ہے، حماس appeared first on شیعہ نیوز پاکستان.

​ 

spot_imgspot_img