شیعہ نیوز: جرمن صدر فرینک والٹر شٹائن مائر نے موجودہ کشیدگی کو 2015 کے جوہری معاہدے کی امریکی منسوخی کا نتیجہ قرار دیتے ہوئے اسے قابل اجتناب اور غیرضروری جنگ قرار دیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق جرمنی کے صدر فرینک والٹر شٹائن مائر نے ایران کے خلاف امریکہ اور اسرائیل کی فوجی کارروائیوں کو غیرقانونی قرار دیتے ہوئے اسے مکمل طور پر قابل اجتناب تنازعہ قرار دیا ہے۔
جرمن میڈیا کے مطابق، سفارتکاروں سے خطاب اور وزارت خارجہ کے 75ویں یومِ تاسیس کی تقریب میں صدر شٹائن مائر نے اس معاملے پر دوٹوک مؤقف اپنایا اور کہا کہ 2015 کے جوہری معاہدے کو امریکی حکومت کی یکطرفہ علیحدگی نے خطے میں موجودہ کشیدگی کی بنیاد رکھی۔ اگر یہ معاہدہ برقرار رہتا تو آج کے بحران سے بچا جا سکتا تھا۔
یہ بھی پڑھیں : لبنان میں ایرانی سفیر پر امریکی پابندی، وزارت خارجہ کا شدید ردعمل
جوہری معاہدے کے مذاکرات میں شامل رہنے والے شٹائن مائر نے موجودہ جنگ کو سیاسی طور پر تباہ کن غلطی اور مہلک سیاسی خطا قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایران کے خلاف امریکی بیان قابلِ قبول نہیں اور بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ جوہری معاہدے سے خطے میں استحکام کے حقیقی امکانات پیدا ہوئے تھے، لیکن ٹرمپ انتظامیہ کے پہلے دور میں امریکی انخلا اور دوسرے دور میں جاری عسکری پالیسی نے حالات کو خطرناک موڑ پر پہنچا دیا۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق، شٹائن مائر کا یہ بیان مغربی پالیسی میں ایک نمایاں اختلاف کی نشاندہی کرتا ہے، کیونکہ انہوں نے کھل کر اعتراف کیا کہ بحران سے بچا جاسکتا تھا اور سفارتی راستہ مؤثر ثابت ہوسکتا تھا۔
The post جرمن صدر کی امریکہ اور اسرائیل کی ایران مخالف سرگرمیوں پر کڑی تنقید appeared first on شیعہ نیوز پاکستان.


