شیعہ نیوز: ایران اور امریکہ اور اس کے اتحادی، جو موجودہ جنگ میں شریک ہیں، اس مفاہمت نامے پر دستخط کرتے ہوئے، تمام محاذوں پر بشمول لبنان میں، فوری اور مستقل طور پر تمام فوجی کارروائیوں کے خاتمے کا اعلان کرتے ہیں۔ وہ اس بات کا اعلان کرتے ہیں کہ آئندہ کبھی بھی ایک دوسرے کے خلاف کوئی جنگ یا کوئی فوجی کارروائی شروع نہیں کریں گے، ایک دوسرے کے خلاف طاقت کے استعمال یا دھمکی سے گریز کریں گے، اور لبنان کی سرحدی سالمیت اور خودمختاری کی ضمانت دیں گے۔”
اسلام آباد مفاہمت نامے کے مکمل متن کو، جو ایران کے خلاف امریکہ اور صہیونی حکومت کی جارحانہ جنگ کے خاتمے سے متعلق ہے پیر 20 جون 2026 کو حتمی شکل دی گئی تھی، ذیل میں شائع کیا جا رہا ہے:
یہ بھی پڑھیں : ہم نے مذاکرات میں فوجی اقدام سے کئی گنا زیادہ کامیابی حاصل کی، باقر قالیباف
ایران اور امریکہ کے درمیان “اسلام آباد سمجھوتے” کا متن
ایران اور امریکہ، مشترکہ طور پر اور نیک نیتی کے ساتھ، تاریخ 20 جون 2026 کو درج ذیل امور پر متفق ہوئے ہیں:
1۔ ایران اور امریکہ اور اس کے اتحادی، جو موجودہ جنگ میں شامل ہیں، اس مفاہمت نامے پر دستخط کرتے ہیں اور اس کے ساتھ ہی تمام محاذوں پر بشمول لبنان میں، فوجی کارروائیوں کے فوری اور مستقل خاتمے کا باضابطہ اعلان کرتے ہیں۔ وہ عہد کرتے ہیں کہ اس کے بعد کبھی بھی ایک دوسرے کے خلاف کوئی جنگ یا کوئی فوجی کارروائی شروع نہیں کریں گے، اور ایک دوسرے پر طاقت کے استعمال یا طاقت کی دھمکی سے باز رہیں گے۔ ساتھ ہی، وہ لبنان کی سرحدی سالمیت اور خودمختاری کی ضمانت دیتے ہیں۔ حتمی معاہدہ، جو بعد میں طے پائے گا، تمام محاذوں بشمول لبنان میں جنگ کے مستقل خاتمے کی تصدیق کرے گا اور اس شق کے دیگر تمام دفعات کی بھی توثیق کرے گا۔
2۔ ایران اور امریکہ باہمی طور پر اس بات کے پابند ہیں کہ وہ ایک دوسرے کی خودمختاری اور سرحدی سالمیت کا مکمل احترام کریں گے اور ایک دوسرے کے اندرونی معاملات میں ہر طرح کی مداخلت سے گریز کریں گے۔
3۔ دونوں فریق اس بات کا عہد کرتے ہیں کہ وہ بات چیت جاری رکھیں گے اور زیادہ سے زیادہ 60 دنوں کے اندر ایک حتمی معاہدے تک پہنچ جائیں گے۔ یہ مدت دونوں فریقین کی باہمی رضایت سے مزید بڑھائی جا سکتی ہے۔
4۔ اس مفاہمت نامے پر دستخط ہوتے ہی، امریکہ فوری طور پر ایران کے خلاف اپنی بحری ناکہ بندی اور ایران کے خلاف کسی بھی قسم کی رکاوٹ یا مزاحمت کو ختم کرنا شروع کر دے گا، اور 30 دنوں کے اندر بحری ناکہ بندی کو مکمل طور پر ختم کر دے گا۔ اس 30 روزہ مدت کے دوران، جہازوں کی آمد و رفت جنگ سے پہلے کی ٹریفک کی مقدار کے مطابق ہوگی، جس کا تعین ایران کرے گا۔ مزید برآں، امریکہ اس بات کا پابند ہے کہ حتمی معاہدے کے 30 دنوں کے اندر، اپنی تمام مسلح افواج کوایران کے ارد گرد کے علاقے سے نکال لے گا۔
5- اس مفاہمت نامے پر دستخط کے ساتھ، ایران اپنی پوری کوشش کے ساتھ تجارتی جہازوں کی خلیج فارس سے بحیرہ عمان اور بالعکس، محفوظ آمدورفت کے لیے 60 دنوں کے لیے، بغیر کسی معاوضے کے، انتظامات کرے گا۔ تجارتی جہازوں کی آمدورفت فوری طور پر شروع ہو جائے گی، لیکن تکنیکی اور فوجی رکاوٹوں کو دور کرنے اور ایران کی طرف سے بارودی سرنگوں کو صاف کرنے کی ضرورت کے پیش نظر، یہ آمدورفت 30 دنوں کے اندر مکمل طور پر بحال کر دی جائے گی۔ اس کے علاوہ، ایران، سلطنت عمان کے ساتھ، آبنائے ہرمز میں مستقبل کی انتظامیہ اور بحری خدمات کے تعین کے بارے میں بات چیت کرے گا، جو قابل اطلاق بین الاقوامی قوانین اور آبنائے ہرمز کے ساحلی ممالک کی خودمختار حقوق کے مطابق ہوگی، اور خلیج فارس کے دیگر ساحلی ممالک کے ساتھ بھی اس سلسلے میں تبادلۂ خیال کرے گا۔
6۔ امریکہ اس بات کا پابند ہے کہ وہ اپنے علاقائی شراکت داروں کے ساتھ مل کر، ایران کی تعمیر نو اور اقتصادی ترقی کے لیے ایک قطعی پروگرام ترتیب دے گا، جس پر فریقین متفق ہوں گے اور جس کے لیے کم از کم 300 بلین ڈالر فراہم کیے جائیں گے۔ اس پروگرام پر عمل درآمد کا طریقہ کار کو، حتمی معاہدے کے ایک حصے کے طور پر، 60 دنوں کے اندر حتمی شکل دی جائے گی۔ اس سے متعلق مالی لین دین کے لیے درکار تمام منظوریاں، استثنیٰ اور اجازت نامے امریکہ کی طرف سے جاری کیے جائیں گے۔
7- امریکہ اس بات کا پابند ہے کہ وہ ایران کے خلاف تمام اقسام کی پابندیوں کو، جن میں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادیں، بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی (IAEA) کے بورڈ آف گورنرز کی قراردادیں، اور امریکہ کی تمام یکطرفہ پابندیاں شامل ہیں، خواہ وہ بنیادی ہوں یا ثانوی، ایک متفقہ وقتی منصوبے کے مطابق، جو حتمی معاہدے کا حصہ ہوگا، ختم کر دے گا۔ ایران اور امریکہ مذکورہ پابندیوں کے خاتمے کی بنیادی اہمیت کو تسلیم کرتے ہیں اور اعلان کرتے ہیں کہ ان کا ارادہ ہے کہ مذاکرات میں ان معاملات کو فوری طور پر حل کریں تا کہ ان پر باہمی اتفاق رائے حاصل کیا جا سکے۔
8- ایران ایک بار پھر اس بات کی توثیق اور واضح اعلان کرتا ہے کہ وہ کبھی بھی جوہری ہتھیار تیار یا حاصل نہیں کرے گا۔ ایران اور امریکہ اس بات پر متفق ہیں کہ ذخیرہ شدہ افزودہ مواد کی حیثیت کو ایک ایسے طریقہ کار کے ذریعے حل کریں گے جو دونوں فریقین کے لیے قابل قبول ہو اور شق نمبر 7 میں دیے گئے وقتی منصوبے کے مطابق، کم از کم مقامِ ذخیرہ پر ہی تخفیف (رقیق سازی) کے ذریعے، اور بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی کی نگرانی میں۔ دونوں فریقین اس بات پر بھی متفق ہیں کہ وہ افزودگی کے موضوع اور ایران کی جوہری ضروریات سے متعلق دیگر متفقہ امور پر، ایک تسلی بخش فریم ورک کی بنیاد پر بات چیت کریں گے، جو حتمی معاہدے میں طے کیا جائے گا۔ حتمی معاہدہ اس شق کے تمام دفعات کی تصدیق کرے گا۔ ایران اور امریکہ مذکورہ جوہری معاملات کی بنیادی اہمیت کو تسلیم کرتے ہیں اور اعلان کرتے ہیں کہ ان کا ارادہ ہے کہ مذاکرات میں ان موضوعات کو فوری طور پر حل کریں تا کہ ان پر باہمی اتفاق ہو سکے۔
9۔ ایران اور امریکہ اس بات پر متفق ہیں کہ حتمی معاہدے تک موجودہ صورتحال (اسٹیٹس کو) کو برقرار رکھیں گے۔ اسلامی جمہوریہ ایران اپنے جوہری پروگرام میں موجودہ صورتحال کو برقرار رکھے گا، اور امریکہ ایران کے خلاف کوئی نئی پابندیاں عائد نہیں کرے گا نہ ہی خطے میں مزید فوجی تعینات کرے گا۔
10- امریکہ اس بات کا پابند ہے کہ اس مفاہمت نامے پر دستخط ہوتے ہی، اور پابندیوں کے مکمل خاتمے تک، امریکی محکمہ خزانہ کی طرف سے ایران کے خام تیل، پیٹرو کیمیکل مصنوعات، اس شعبے کی دیگر پیداوار، اور تمام متعلقہ خدمات بشمول بینکاری، مالی لین دین، بیمہ، نقل و حمل وغیرہ کی برآمد کے لیے استثنیٰ جاری کرے گا۔
11- امریکہ اس بات کا پابند ہے کہ اس مفاہمت نامے پر عمل درآمد کے ذریعے، ایران کے محدود یا منجمد شدہ فنڈز اور اثاثوں کو مکمل طور پر استعمال کے لیے دستیاب کرائے گا۔ امریکہ اور ایران مذاکرات کے دوران، دو طرفہ طور پر ان فنڈز کے غیرمنجمد ہونے کے طریقہ کار کے بارے میں اتفاق کریں گے۔ یہ فنڈز، چاہے وہ اصل اکاؤنٹ میں رکھے جائیں یا منتقل کیے جائیں، ایران کے مرکزی بینک کی طرف سے متعین کردہ وصول کرنے والے کو ادائیگی کے لیے مکمل طور پر قابل استعمال ہوں گے۔ امریکہ اس سلسلے میں تمام ضروری منظوریاں اور اجازت نامے جاری کرنے کا پابند ہے۔
12- ایران اور امریکہ اس بات پر متفق ہیں کہ وہ اس مفاہمت نامے کی کامیاب عملآوری اور مستقبل میں حتمی معاہدے کی پاسداری کی نگرانی کے لیے ایک عملی طریقہ کار (میکانزم) تشکیل دیں گے۔
13- اس مفاہمت نامے پر دستخط کے بعد، اور شق نمبر 1، 4، 5، 10 اور 11 پر عمل درآمد شروع ہونے اور ان اقدامات کے جاری رہنے کی شرط پر، ایران اور امریکہ حتمی معاہدے سے متعلق مذاکرات کو صرف باقی شقوں کے حوالے سے شروع کریں گے۔
شق نمبر 14:
حتمی معاہدے کی توثیق اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی ایک حتمی قرارداد کے ذریعے کی جائے گی۔
The post امریکہ اور اسرائیل کی ایران کے خلاف جارحانہ جنگ کے خاتمے کا سمجھوتہ ” اسلام آباد مفاہمت نامہ” کا مکمل متن appeared first on شیعہ نیوز پاکستان.


