شیعہ نیوز: اقوام متحدہ کی خصوصی نمائندہ ہ فرانچسکا البانیزے نے خبردار کیا ہے کہ غزہ سے ملبہ ہٹانے کی ممکنہ اسرائیلی کارروائی جنگی جرائم کے اہم شواہد ضائع کرنے اور ملبے تلے دبے فلسطینی شہداء کی لاشوں کی شناخت میں رکاوٹ بن سکتی ہے۔
رپورٹ کے مطابق فلسطین کے مقبوضہ علاقوں میں انسانی حقوق کے امور سے متعلق اقوام متحدہ کی خصوصی نمائندہ فرانچسکا البانیزے نے خبردار کیا ہے کہ اسرائیل کی جانب سے غزہ سے ملبہ ہٹانے کی کارروائی کے نتیجے میں فلسطینی شہریوں کے خلاف کیے گئے جرائم کے اہم شواہد ضائع ہوسکتے ہیں۔
فرانچسکا البانیزے نے کہا ہے کہ غزہ کی پٹی سے ملبہ صاف کرنے کی کسی بھی جامع کارروائی سے قبل جنگ کے دوران ہونے والے جرائم کے شواہد جمع کرنا اور متاثرین کی شناخت مکمل کرنا ضروری ہے۔
یہ بھی پڑھیں : مصر اور برطانیہ نے بھی صیہونی جارحیت کو روکنے کے لیے عالمی اقدام پر زور دیا
البانیزے نے اپنے بیان میں کہا کہ ملبے تلے موجود شواہد کو محفوظ رکھنے کے ساتھ ساتھ شہداء اور لاپتا افراد کی لاشیں نکالنے اور ان کی شناخت کے لیے مناسب اقدامات کیے جانے چاہییں۔
انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ ملبہ ہٹانے کے منصوبوں کی تیاری اور ان پر عمل درآمد میں فلسطینیوں کو بنیادی کردار اور ذمہ داری دی جانی چاہیے۔
اقوام متحدہ کی عہدیدار نے کہا کہ غزہ کا ملبہ محض تباہ شدہ عمارتوں کا ڈھیر نہیں بلکہ جرائم کے ایک منظر، قبرستان اور ایک اہم مادی ثبوت کی حیثیت رکھتا ہے۔
البانیزے نے مزید کہا کہ انہیں مختلف ذرائع سے اطلاعات ملی ہیں کہ اسرائیلی کمپنیاں غزہ سے ملبہ ہٹانے کی کارروائیوں میں حصہ لے رہی ہیں۔
البانیزے کا یہ انتباہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب اقوام متحدہ نے غزہ میں جمع ہونے والے ملبے اور تباہ شدہ عمارتوں کا حجم تقریباً 6 کروڑ 10 لاکھ ٹن لگایا ہے۔
اقوام متحدہ کے اندازے کے مطابق غزہ کی پٹی سے اتنے بڑے پیمانے پر ملبہ صاف کرنے میں تقریباً سات سال لگ سکتے ہیں۔
اس صورت حال میں انسانی حقوق کے ماہرین کا کہنا ہے کہ ملبہ ہٹانے کا عمل صرف تعمیر نو کا معاملہ نہیں بلکہ جنگ کے دوران ہونے والے واقعات کے شواہد محفوظ رکھنے اور لاپتا افراد کی باقیات تلاش کرنے سے بھی براہ راست جڑا ہوا ہے۔
دوسری جانب حماس نے فرانچسکا البانیزے کے انتباہ کا خیرمقدم کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ غزہ سے ملبہ اس انداز میں ہٹایا جائے جس سے ملبے تلے موجود لاپتا افراد کی لاشیں نکالنے اور جنگی جرائم سے متعلق شواہد محفوظ رکھنے کو یقینی بنایا جا سکے۔
غزہ کی وزارت صحت کے مطابق اسرائیلی جارحیت کے دوران اب تک 73 ہزار سے زائد فلسطینی جاں بحق ہو چکے ہیں۔
The post اسرائیل غزہ میں اپنے جرائم کے شواہد مٹا رہا ہے،ہ فرانچسکا البانیزے appeared first on شیعہ نیوز پاکستان.


