شیعہ نیوز: شیعہ فقہ میں کسی میت کو وفات کے بعد جلد دفن کرنا مستحب اور پسندیدہ عمل ہے، لیکن اگر کوئی شرعی یا عقلی ضرورت موجود ہو تو تدفین میں تاخیر جائز سمجھی جاتی ہے۔ اسی اصول کی بنیاد پر شیعہ علماء آیت اللہ خامنہ ای یا کسی بھی بڑی مذہبی و سیاسی شخصیت کی تدفین میں تاخیر کا جواز بیان کرتے ہیں۔ ان کے دلائل کا خلاصہ یہ ہے: جلد تدفین کا حکم وجوبی نہیں بلکہ استحبابی ہے۔ یعنی اصل حکم یہ ہے کہ میت کو جلد دفن کیا جائے، لیکن اگر کوئی معقول شرعی عذر ہو تو تاخیر جائز ہے۔ اگر لاکھوں افراد کو نمازِ جنازہ میں شرکت کا موقع دینا ہو، مختلف ممالک سے نمائندوں کی آمد متوقع ہو یا امن و امان اور انتظامی امور کا تقاضا ہو تو علماء اسے ایک شرعی مصلحت قرار دیتے ہیں۔
آئمۂ اہل بیتؑ کی سیرت سے استدلال کرتے ہوئے شیعہ فقہاء یہ کہتے ہیں کہ بعض تاریخی مواقع پر مختلف وجوہات کی بنا پر تدفین میں تاخیر ہوئی، لہٰذا ہر تاخیر شرعاً ممنوع نہیں۔ ایک فقہی قاعدہ “لا حرج” اور “اہم و مہم” ہے۔ اگر فوری تدفین سے شدید مشکلات پیدا ہوں اور چند گھنٹوں یا ایک دو دن کی تاخیر سے ان مشکلات کا حل نکلتا ہو تو فقہ میں اس کی گنجائش موجود ہے۔ اگر تاخیر کے دوران میت کو مناسب طریقے سے محفوظ رکھا جائے اور بے حرمتی یا جسم کے خراب ہونے کا اندیشہ نہ ہو تو تاخیر کو جائز قرار دیا جاتا ہے۔ تاخیر ہمیشہ ضرورت اور مصلحت کے دائرے میں ہونی چاہیئے۔ اگر بات خاص طور پر آیت اللہ خامنہ ای کی تدفین میں کئی ماہ کی تاخیر کی ہے تو ایرانی حکام اور ان کے قریب سمجھے جانے والے ذرائع کی طرف سے بنیادی طور پر درج ذیل جواز پیش کیے گئے ہیں:
یہ بھی پڑھیں : تہران، علامہ سید ساجد نقوی ، علامہ راجہ ناصرعباس اور علامہ سید جواد نقوی کی خصوصی ملاقات توجہ کا مرکز
کہا گیا ہے کہ ایران اور امریکہ، اسرائیل کے درمیان جاری جنگ کے دوران اتنے بڑے جنازے کا انعقاد ممکن نہیں تھا۔ لاکھوں افراد، اعلیٰ حکومتی شخصیات اور فوجی قیادت کی موجودگی ایک بڑا سکیورٹی خطرہ بن سکتی تھی۔ اس لیے حالات معمول پر آنے تک تاخیر کی گئی۔ بعض رپورٹوں کے مطابق میت کو ایسے محفوظ سرد خانے میں رکھا گیا، جہاں جسم کی حفاظت ممکن تھی۔ شیعہ فقہ میں اگر ناگزیر ضرورت ہو اور میت محفوظ رہے تو عارضی تاخیر کی گنجائش بیان کی جاتی ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ کروڑوں افراد کی شرکت، غیر ملکی وفود کی آمد اور متعدد شہروں (تہران، قم، نجف، کربلا اور مشہد) میں مراسم کی منصوبہ بندی کے لیے اضافی وقت درکار تھا۔
بعض سرکاری اعلانات میں یہ بھی کہا گیا کہ ابتدا میں مراسم کو مؤخر کیا گیا، تاکہ محرم کے پہلے عشرے کے عزاداری پروگراموں کے ساتھ تصادم نہ ہو اور دونوں مناسبتیں اپنے پورے احترام کے ساتھ ادا کی جاسکیں۔ فقہی اعتبار سے شیعہ فقہاء عمومی طور پر کہتے ہیں کہ میت کو جلد دفن کرنا مستحب مؤکد ہے، لیکن اگر حفظِ جان، حفظِ نظام، یا کوئی اہم شرعی مصلحت موجود ہو تو تاخیر جائز ہوسکتی ہے۔ اسی اصول کو آیت اللہ خامنہ ای کی تدفین میں تاخیر کے جواز کے طور پر پیش کیا گیا۔ سرکاری موقف یہ رہا ہے کہ جنگی حالات اور غیر معمولی سکیورٹی خطرات اس تاخیر کا بنیادی سبب تھے۔
The post امام خامنہ ای کے جنازے میں تاخیر کیوں؟| تحریر: پروفیسر تنویر حسین نقوی appeared first on شیعہ نیوز پاکستان.


