spot_img

ذات صلة

جمع

مکہ دفاعی اتحاد کے تحت پاکستان، ترکیہ اور سعودی عرب سے انصار اللہ کے خلاف کارروائی کا امریکی مطالبہ

شیعہ نیوز: : امریکی کانگریس کے رکن جو ولسن نے سعودی عرب، ترکیہ اور پاکستان پر مشتمل نئے دفاعی اتحاد کا حوالہ دیتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ تینوں ممالک یمن کی انصار اللہ کے خلاف فوجی کارروائی کریں۔

جو ولسن نے اپنے بیان میں کہا کہ “مکہ دفاعی اتحاد” کے اصول کے تحت ایک رکن پر حملہ تمام ارکان پر حملہ تصور کیا جاتا ہے، لہٰذا اب وقت آگیا ہے کہ ترکیہ، پاکستان اور سعودی عرب مل کر حوثیوں کو ختم کریں اور یمن کو آزاد کرائیں۔

تجزیہ کاروں کے مطابق یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب خطے میں سعودی عرب، پاکستان اور ترکیہ کے درمیان دفاعی تعاون پر توجہ بڑھ رہی ہے۔ تاہم، جو ولسن کا بیان امریکی حکومت کی باضابطہ پالیسی یا اعلان قرار دینے سے پہلے مزید سرکاری تصدیق ضروری ہے۔

یمن کی انصار اللہ گزشتہ کئی برسوں سے خطے میں ایک اہم عسکری قوت کے طور پر سامنے آئی ہے، جبکہ اس کے اسرائیل کے خلاف حملوں اور بحیرۂ احمر میں کارروائیوں نے مشرقِ وسطیٰ کی کشیدگی کو مزید بڑھایا ہے۔

یہ بھی پڑھیں : پاک سعودیہ دفاعی تعاون جاری ہے، دفاعی معاہدے پر عملدرآمد کیلئے وقت درکار ہوگا: ترجمان دفتر خارجہ

دوسری جانب ناقدین کا کہنا ہے کہ اگر مکہ دفاعی اتحاد کو یمن کے خلاف فوجی کارروائی کے لیے استعمال کیا جاتا ہے تو اس سے خطے میں ایک نئی جنگ کا آغاز ہوسکتا ہے اور پاکستان و ترکیہ کے لیے بھی ایک انتہائی پیچیدہ خارجہ پالیسی کا مسئلہ پیدا ہوگا۔

اہم سوال یہ ہے کہ کیا مکہ دفاعی اتحاد کا مقصد واقعی رکن ممالک کے دفاع تک محدود رہے گا، یا اسے یمن میں انصار اللہ کے خلاف ایک نئے فوجی محاذ کے طور پر استعمال کیا جائے گا؟

The post مکہ دفاعی اتحاد کے تحت پاکستان، ترکیہ اور سعودی عرب سے انصار اللہ کے خلاف کارروائی کا امریکی مطالبہ appeared first on شیعہ نیوز پاکستان.

​ 

spot_imgspot_img