شیعہ نیوز: کویت سٹی— یکم مارچ کی وہ رات ابھی تک بہت سے امریکی فوجیوں کے ذہن سے نہیں گئی۔
ایران کا ڈرون حملہ کویت کے شوائبہ پورٹ پر ہوا۔ ٹارگٹ تھا امریکی فوج کا تاکٹیکل آپریشنز سینٹر۔ صبح تک 6 فوجی مارے جا چکے تھے اور 30 سے زیادہ زخمی اسپتالوں میں تھے۔
لیکن اب جو بات سامنے آئی ہے وہ ہلاکتوں سے بھی زیادہ پریشان کن ہے۔
واشنگٹن پوسٹ اور CBS سے بات کرتے ہوئے بچ جانے والے فوجیوں نے سیدھا اپنے کمانڈرز پر انگلی اٹھائی ہے۔
“یہ حملہ روکا جا سکتا تھا”
فوجیوں کا کہنا ہے کہ جس اڈے پر انہیں رکھا گیا تھا وہاں مناسب دفاعی نظام ہی نہیں تھا۔ نہ اینٹی ڈرون سسٹم، نہ بروقت وارننگ۔ ایک فوجی نے کہا: “ہم سب جانتے تھے یہ جگہ کھلی ہے۔ پھر بھی ہمیں یہیں رکھا گیا۔”
سب سے بڑا الزام سینئر افسران پر ہے۔ فوجیوں کے مطابق حملے کے فوراً بعد سینئر کمانڈر عمارت چھوڑ کر چلے گئے۔ نیچے افراتفری تھی، زخمی چیخ رہے تھے، لیکن اوپر سے کوئی واضح حکم نہیں آیا۔
پینٹاگون نے پہلے دن صرف “5 شدید زخمی” بتائے تھے۔ حقیقت یہ نکلی کہ 25 فوجیوں کو جرمنی کے لینڈسٹول اسپتال لے جانا پڑا۔ ان میں 20 کی حالت “فوری” تھی — دماغی چوٹ، یادداشت جانا، شدید جلنا۔ 12 کو والٹر ریڈ اور ایک کو ٹیکساس بھیجا گیا۔
یہ بھی پڑھیں :ہمارے تین سرحدی مراکز اور ایک بحری تنصیب کو نشانہ بنایا گیا، کویت
یہ سب ہوا کیوں؟
یہ حملہ 28 فروری کو امریکہ-اسرائیل کے ایران پر مشترکہ آپریشن کے اگلے دن ہوا تھا۔ ایران نے کہا یہ جوابی کارروائی تھی۔ ایران کے انقلابی گارڈز نے دعویٰ بھی کیا کہ انہوں نے کویت میں “کیمپ پیٹریاٹ” اور بحرین میں بھی امریکی اڈوں کو نشانہ بنایا۔
اب سوال یہ ہے کہ اگر خطرہ اتنا بڑا تھا تو فوجیوں کو محفوظ جگہ کیوں نہیں دی گئی؟ اور حملے کے بعد کمانڈ کا نظام کیوں بیٹھ گیا؟
پینٹاگون نے ابھی تک ان الزامات پر کوئی جواب نہیں دیا۔ صرف اتنا کہا ہے کہ “واقعے کی تحقیقات ہو رہی ہیں”۔
ڈوور ایئر فورس بیس پر 7 مارچ کو جب 6 شہید فوجیوں کے تابوت اترے تھے، تب کسی نے نہیں سوچا تھا کہ چند ہفتے بعد ان کے ہی ساتھی اپنے کمانڈرز کے خلاف بول پڑیں گے۔
آپ کو لگتا ہے اس معاملے میں اعلیٰ سطح کی تحقیقات ہونی چاہیے؟
The post کویت حملہ: “ہمیں غیرمحفوظ جگہ پر چھوڑ دیا گیا” – بچ جانے والے امریکی فوجیوں کا کمانڈرز پر الزام appeared first on شیعہ نیوز پاکستان.


