شیعہ نیوز: غزہ، لبنان اور ایران کے خلاف جنگوں کے بڑھتے اخراجات نے اسرائیلی معیشت پر بھاری بوجھ ڈال دیا؛ 2022 سے 2025 کے دوران سرکاری قرض میں تقریباً 360 ارب شیکل کا اضافہ ہوا۔
رپورٹ کے مطابق طوفان الاقصی آپریشن کے بعد صہیونی حکومت کو گزشتہ تین برس کے دوران شدید اقتصادی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا ہے اور اس کے سرکاری قرضے کی مجموعی مالیت 1.4 ٹریلین شیکل سے تجاوز کر گئی ہے۔
تفصیلات کے مطابق، اسرائیلی اخبار زیمان یسرائیل نے اپنی ایک رپورٹ میں اسرائیل کی موجودہ اقتصادی صورت حال کا جائزہ لیتے ہوئے بتایا ہے کہ گزشتہ تین برس میں اسرائیلی حکومت کے عوامی قرض میں تقریباً 360 ارب شیکل کا اضافہ ہوا، جو تقریباً 35 فیصد بنتا ہے۔ 2025 کے اختتام تک اسرائیل کا مجموعی سرکاری قرض 1.4 ٹریلین شیکل سے زیادہ ہو چکا تھا۔
رپورٹ کے مطابق 2023 کے آغاز میں اسرائیل کے سرکاری قرض اور مجموعی ملکی پیداوار کا تناسب تقریباً 60 فیصد تھا، جو 2025 کے اختتام تک بڑھ کر تقریباً 68.5 فیصد ہو گیا۔
یہ بھی پڑھیں : یمنی فوج کا المخا میں سعودی حمایت یافتہ جنگجوؤں کے ٹھکانوں پر متعدد میزائل حملے
اسرائیلی اخبار کے مطابق قرض میں یہ تیز رفتار اضافہ محض اتفاق نہیں تھا۔ غزہ، لبنان اور ایران کے خلاف جنگوں کے ساتھ ساتھ 7 اکتوبر 2023 کے بعد بڑے پیمانے پر شہریوں کی نقل مکانی اور دیگر اخراجات نے اسرائیلی حکومت کو دفاعی بجٹ میں نمایاں اضافہ کرنے پر مجبور کیا۔
اس کے علاوہ جنگ کے دوران ہونے والے نقصانات کی تلافی، تعمیرِ نو اور شہری اخراجات پورے کرنے کے لیے بھی حکومت کو بڑی رقوم درکار ہوئیں۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بجٹ خسارہ پورا کرنے کے لیے اسرائیلی حکومت نے اندرون ملک اور بیرون ملک مزید بانڈز جاری کیے۔ اخبار کے مطابق حکومت کے ناقص مالیاتی انتظامات اور نیتن یاہو حکومت کی جانب سے اتحادی جماعتوں کو بھاری رقوم فراہم کرنے کے فیصلوں نے بھی اقتصادی دباؤ میں اضافہ کیا۔
رپورٹ کے مطابق اسرائیل کا 1.4 ٹریلین شیکل کا سرکاری قرض اس کے مجموعی مالی بوجھ کی مکمل تصویر پیش نہیں کرتا۔
اس میں سرکاری ملازمین اور دیگر اہل افراد کی مستقبل کی پنشن اور قومی بیمہ سمیت کئی ایسی مالی ذمہ داریاں شامل نہیں ہیں جو مستقبل میں حکومت کو ادا کرنا ہوں گی۔ ان ذمہ داریوں کی مجموعی مالیت 1.5 ٹریلین شیکل سے بھی زیادہ بتائی گئی ہے۔
اسرائیلی حکومت نے بانڈز، قرضوں اور دیگر مالی ذرائع کے ذریعے جو رقم حاصل کی ہے، وہ پنشن فنڈز، انشورنس کمپنیوں، بینکوں، ادارہ جاتی سرمایہ کاروں، نجی سرمایہ کاروں اور بیرونی قرض دہندگان کو واپس کرنا ہوگی۔
اسرائیلی اخبار کا کہنا ہے کہ قرض لینا بذات خود کوئی غیر معمولی یا لازماً منفی عمل نہیں۔ حکومتیں جنگ، بنیادی ڈھانچے، تعلیم اور ایسے منصوبوں کے لیے قرض لے سکتی ہیں جو مستقبل میں اقتصادی ترقی کا سبب بنیں۔ اصل مسئلہ اس وقت پیدا ہوتا ہے جب حکومت موجودہ اخراجات پورے کرنے کے لیے مسلسل قرض لیتی رہے اور قرض میں اضافہ معیشت کی آمدنی پیدا کرنے کی صلاحیت سے زیادہ تیزی سے ہونے لگے۔
رپورٹ کے مطابق ہر اضافی شیکل کے قرض کے ساتھ مستقبل میں سود کی ادائیگی بھی بڑھتی ہے۔ اس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ حکومتی بجٹ کا زیادہ حصہ صحت، تعلیم، بنیادی ڈھانچے یا ٹیکسوں میں کمی کے بجائے قرض کی ادائیگی پر خرچ ہونے لگتا ہے۔
زیمان یسرائیل کے مطابق 2022 سے 2025 کے دوران اسرائیلی قرض میں تقریباً 360 ارب شیکل کا اضافہ ہوا، لیکن اس قرض کی اصل قیمت مستقبل میں ادا کیا جانے والا سود ہے۔
اسرائیل کے 2026 کے بجٹ میں سرکاری قرض پر سود کی ادائیگی کے لیے 64.6 ارب شیکل مختص کیے گئے ہیں۔ یہ رقم 2022 کے مقابلے میں تقریباً 25 ارب شیکل زیادہ ہے۔
رپورٹ کے مطابق سوال صرف یہ نہیں کہ اسرائیل کا موجودہ قرض 1.4 ٹریلین شیکل ہے یا مختلف حساب کے مطابق اس سے کہیں زیادہ، بلکہ اصل سوال یہ ہے کہ کیا اسرائیلی معیشت مستقبل میں بھی اسی رفتار سے بڑھتے ہوئے قرض کو برداشت کر سکتی ہے۔
اخبار کے مطابق اگر اسرائیل وسیع جنگی اخراجات، سرکاری بجٹ، مذہبی مدارس اور اداروں کے لیے بڑے مالی وسائل، کام نہ کرنے والے صحت مند نوجوانوں کے لیے پنشن اور دیگر مراعات، بڑے بجٹ خسارے اور مستقبل کی بڑھتی ہوئی مالی ذمہ داریوں کا سلسلہ جاری رکھتا ہے تو آنے والے برسوں میں اصل مسئلہ موجودہ قرض کی رقم نہیں بلکہ وہ مالی بوجھ ہوگا جس کی ادائیگی کا وعدہ حکومت مستقبل کے بجٹ سے کرچکی ہے۔
The post اسرائیل میں شدید اقتصادی بحران، عوامی قرض 1.4 ٹریلین شیکل سے تجاوز کرگیا appeared first on شیعہ نیوز پاکستان.


