شیعہ نیوز: ایران کی سپریم نیشنل سیکورٹی کونسل کے سیکریٹری جنرل محسن رضائی نے یونان کے بارے میں امریکی وزیر خارجہ کے بیان کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکہ میں ہمارا سامنا کچھ جاہل اور احمق لوگوں سے ہے۔
رپورٹ کے مطابق میجر جنرل محسن رضائی نے کہا کہ جنگ کا خاتمہ ایرانی قوم کے ہاتھ میں ہے اور جب تک وہ دشمن کو اپنے حقوق تسلیم کرنے پر مجبور نہیں کر دے گی، استقامت و مزاحمت ترک نہیں کرے گا۔
انھوں نے کہا کہ امریکیوں نے ہمیں جواب دیا ہے اور ہم ان کے جواب کو ناکافی سمجھتے ہیں اور انھیں ہمارے ابہامات کو دور کرنا چاہیے۔ جب تک ہمارے ابہامات دور نہیں ہوں گے تب تک اگلا مرحلہ شروع نہیں ہوگا۔
رپورٹ کے مطابق انھوں نے پریس ٹی وی سے بات کرتے ہوئے آبنائے ہرمز کے ذریعے تیل منتقل کرنے کے امریکہ کے دعوؤں کا ذکر کیا اور کہا کہ ٹرمپ نے عمان کے ساحلی سمندری علاقوں میں سرگرم بعض اوباشوں کو ملازم رکھ کر اسمگلنگ کا راستہ اختیار کیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ وہ ہر روز دعویٰ کرتے ہیں کہ آبنائے ہرمز کھلی ہوئی ہے لیکن میں جواب میں کہتا ہوں کہ تم اسمگلنگ کر رہے ہو، یہ آبی راستہ، ایران کے کنٹرول میں ہے اور ہم اس کا مینجمینٹ کر رہے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں : یمن کے حملے کے بعد سعودی عرب کے شاہ فہد ہوائی اڈے پر پروازیں متاثر
سپریم نیشنل سیکورٹی کونسل کے سیکریٹری نے کہا کہ گزشتہ کچھ ماہ کے دوران ہم نے آبنائے ہرمز میں ہر رات ان جہازوں میں سے پانچ کو نشانہ بنایا ہے جنھیں اسمگلر استعمال کرتے تھے۔ میجر جنرل رضائی نے کہا کہ سینٹکام کا کمانڈر اسمگلنگ کی سرگرمیوں کی قیادت کر رہا ہے۔ انھوں نے کہا کہ وہ متحدہ عرب امارات کی فوج کو بھی استعمال کر رہا ہے۔ وہ تیل کو بڑے آئل ٹینکروں تک منتقل کرنے کے لیے پانچ یا چھے چھوٹی کشتیوں کا استعمال کرتے ہیں لیکن ہم بھی ہر رات ان میں سے پانچ یا چھے کو نشانہ بناتے ہیں۔
سپریم نیشنل سیکورٹی کونسل کے سیکریٹری نے کہا کہ امریکہ سے زیادہ طاقتور قوتوں نے بھی ایران کو فتح کرنے کی کوشش کی لیکن آخرکار وہ “تاریخ کے کوڑے دان” میں جا پہنچیں۔ انھوں نے کہا کہ امریکہ کو ایران کے ساتھ محاذ آرائی میں بار بار شکست کا سامنا کرنا پڑا ہے اور اسی کے نتیجے میں اس نے مایوسی کے عالم میں اقتصادی جنگ کا راستہ اختیار کیا ہے۔ میجر جنرل رضائی نے اس بات پر زور دیتے ہوئے کہ اس محاذ آرائی کے خاتمے کا وقت ایران طے کرے گا، زور دے کر کہا کہ تہران اپنے جائز مطالبات پورے ہونے تک مزاحمت جاری رکھے گا۔
خطے میں امریکی فوجیوں کی موجودگی کے بارے میں انھوں نے کہا کہ عراق سے امریکی فوجیوں کا انخلا اس بات کی نشان دہی کرتا ہے کہ واشنگٹن خطے پر اپنا فوجی منصوبہ مسلط کرنے میں ناکام رہا ہے۔ انھوں نے اس تبدیلی کو مغربی ایشیا میں امریکی فوجی موجودگی کے خلاف ایران کی مزاحمت کے حق بجانب ہونے کی تصدیق قرار دیا۔ سپریم نیشنل سیکورٹی کونسل کے سیکریٹری نے یہ بھی کہا کہ تین کروڑ سے زیادہ ایرانیوں نے “جان فدا” (وطن پر جاں نثار کرنے والے) مہم میں اپنا نام رجسٹر کرایا ہے تاکہ امریکا کی جارحیت کی صورت میں ایران کے دفاع کے لیے ہتھیار اٹھا سکیں۔
انھوں نے سفارت کاری کے بارے میں کہا کہ تہران اپنے سابقہ سفارتی طریقۂ کار کی طرف نہیں لوٹے گا لیکن سفارت کاری کو کبھی مکمل طور پر ترک بھی نہیں کرے گا۔ میجر جنرل رضائی نے خبردار کیا کہ اگر واشنگٹن نے ایک بار پھر ایران کے خلاف جارحیت کی تو ڈیٹا کے اہم سسٹم اور مصنوعی ذہانت (اے آئی) کے سینسرز سمیت امریکی اثاثے ممکنہ طور پر نشانہ بن سکتے ہیں۔ انھوں نے آبنائے ہرمز کے اطراف مسائل کا ذمہ دار بھی واشنگٹن اور اس کے علاقائی اتحادیوں کو قرار دیا۔
سپریم نیشنل سیکورٹی کونسل کے سیکریٹری نے اس گفتگو میں مزید کہا کہ ایران کسی بھی نئی جارحیت کا مقابلہ کرنے کے لیے تیار ہے۔ انھوں نے کہا کہ اگر جنگ دوبارہ شروع ہوئی تو ہم اپنی نئی صلاحیتوں کا مظاہرہ کرنے کے لیے پوری طرح تیار ہیں۔ انھوں نے مزید کہا کہ متحدہ عرب امارات اور آبنائے ہرمز کے اطراف امریکہ کے نہایت قیمتی اثاثے موجود ہیں، جنھیں ہم نے ابھی تک اپنے اہداف میں شامل نہیں کیا۔ میجر جنرل رضائی نے خبردار کیا کہ اگر دوبارہ جنگ چھڑ گئی تو خطے میں موجود بہت سے کیبلز، ڈیٹا سینٹرز، مصنوعی ذہانت کی تنصیبات اور دیگر مقامات تباہ ہو جائیں گے۔ انھوں نے کہا کہ خطے میں موجود کیبلز، ڈیٹا سینٹرز اور مصنوعی ذہانت کی تنصیبات کی مالیت 2 ٹریلین ڈالر سے زیادہ ہے۔ انھوں نے زور دے کر کہا کہ اگر آج ایک اور محاذ آرائی ہوئی تو ہم یقیناً ایک بہت زیادہ وسیع اور ہمہ گیر منصوبے کے ساتھ دشمن کا مقابلہ کریں گے۔
سپریم نیشنل سیکورٹی کونسل کے سیکریٹری نے اس گفتگو میں مزید کہا کہ امریکہ میں ہمیں ایسے لوگوں کے ایک گروہ کا سامنا ہے جو جاہل، نادان اور احمق ہیں، جنھوں نے تاریخ کا مطالعہ نہیں کیا اور ایرانی قوم کو نہیں پہچانتے ہیں۔ اسی لیے ہم اس صورت حال تک پہنچے ہیں۔ انھوں نے امریکہ کے وزیر خارجہ مارکو روبیو سے مخاطب ہو کر کہا کہ “میرے پاس آپ کے لیے ایک پیغام ہے، ہزاروں سال کے دوران آپ سے کہیں بڑی شخصیات بارہا ایران آنے اور اس ملک پر قبضہ کرنے کی خواہش مند رہ چکی ہیں۔ مختلف طاقتوں نے ایران میں داخل ہونے، اس پر کنٹرول حاصل کرنے اور ایرانی قوم کو تباہ کرنے کے خواب دیکھے لیکن ایرانی قوم نے ان سب کو شکست دی۔ آج ان کے نام تاریخ سے مٹ چکے ہیں جبکہ ایرانی قوم اب بھی تاریخ کی کتابوں میں موجود ہے۔ میں اسے مزید واضح انداز میں کہتا ہوں: آپ ایران کے خلاف جتنی زیادہ کوشش کریں گے، اتنا ہی دلدل میں دھنستے جائیں گے۔”
سپریم نیشنل سیکورٹی کونسل کے سیکریٹری نے امریکی وزیر خارجہ سے خطاب کرتے ہوئے کہا: “آپ نے تاریخ کا حوالہ دیا اور ہماری تاریخ میں آپ کے لیے بہت سبق آموز واقعات موجود ہیں۔ آپ کو ایک بار پھر ایرانی قوم کے سامنے گھٹنے ٹیکنے پر مجبور ہونا پڑے گا اور آخرکار آپ ایرانی قوم کو مزید عظیم بنا دیں گے۔ انھوں نے امریکی حکام سے بھی خطاب کرتے ہوئے کہا کہ “ایرانی کبھی آپ کے سامنے ہتھیار نہیں ڈالیں گے اور جب تک وہ اپنے حقوق آپ سے حاصل نہیں کر لیتے، اپنے مطالبات سے پیچھے نہیں ہٹیں گے۔”
میجر جنرل رضائی نے اس گفتگو کے ایک اور حصے میں کہا کہ امریکہ میں بیسنٹ کو “جھوٹا وزیر” سمجھا جاتا ہے۔ انھوں نے کہا کہ ٹرمپ کے وزیر خزانہ ایک سال سے زیادہ عرصے سے بیانات جاری کر رہے ہیں اور وعدے کر رہے ہیں لیکن عملی طور پر ان میں ناکام رہے ہیں۔ انھوں نے مزید کہا کہ یہ شخص ایرانی قوم سے ٹکر لینا اور اس کی معیشت پر جنگ مسلط کرنا چاہتا ہے۔ مجھے یقین ہے کہ اسے عبرت ناک شکست کا سامنا کرنا پڑے گا۔ سپریم نیشنل سیکورٹی کونسل کے سیکریٹری نے کہا کہ جس طرح امریکی فوجی، جنگ میں شکست کھا چکے ہیں، اسی طرح ہم انھیں اقتصادی جنگ میں بھی شکست دیں گے۔ ہم اپنے منصوبے پہلے ہی تیار کر چکے ہیں اور ان شاء اللہ اقتصادی دفاع کے بہت سے اقدامات کا اعلان کریں گے۔
انھوں نے “اقتصادی جنگ کی کونسل” کی تشکیل کا جائزہ لیے جانے کی بھی خبر دی اور کہا کہ ممکنہ طور پر ایسی کونسل تشکیل دی جائے گی اور ہم ٹرمپ اور بیسنٹ کو دکھائیں گے کہ اقتصادی جنگ کا حقیقی مطلب کیا ہے اور اس لڑائی میں ان کی کیا پوزیشن ہے۔
The post امریکہ میں ہمارا سامنا کچھ جاہل اور احمق لوگوں سے ہے، جنرل محسن رضائی appeared first on شیعہ نیوز پاکستان.


