شیعہ نیوز: فلسطینی سیاسی و مزاحمتی دھڑے بدھ کے روز قاہرہ میں مذاکرات کے ایک نئے اور اہم مرحلے کا آغاز کر رہے ہیں، جس کا بنیادی مقصد داخلی تقسیم کا خاتمہ اور اسلامی تحریک مزاحمت ’حماس‘ اور تحریکِ جہادِ اسلامی کی ’پی ایل او‘ میں شمولیت پر بحث کرنا ہے۔ یہ اہم مذاکرات فلسطینی انتخابات کے التوا کے چند روز بعد سامنے آئے ہیں، جس نے سیاسی شراکت داری کے فائل کو ایک بار پھر فلسطینی گفتگو کے بنیادی محور کے طور پر سامنے لا کھڑا کیا ہے۔
قطری خبر رساں ادارے ”الجزیرہ“ کو ملنے والے فلسطینی ذرائع کے بيانات کے مطابق بدھ اور جمعرات کے روز ہونے والی ان ملاقاتوں میں فتح، حماس، جہادِ اسلامی اور عوامی محاذ برائے آزادی فلسطین کی اعلیٰ ترین قیادت شرکت کر رہی ہیں، جہاں قومی وحدت کی بحالی اور عمومی فلسطینی انتخابات کی راہ ہموار کرنے پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا جائے گا۔
یہ اجلاس ایک ایسے وقت میں ہو رہے ہیں جب صیہونی اثرات کے سائے میں قائم اتھارٹی کے سربراہ محمود عباس نے گذشتہ ہفتے کے روز ایک نیا صدارتی فرمان جاری کیا ہے، جس کے تحت صدارتی اور لیجسلیٹو (قانون ساز) انتخابات کو ایک ساتھ 11 ستمبر سنہ 2027ء کو کروانے کا اعلان کیا گیا ہے، جبکہ لیجسلیٹو الیکشن کی سابقہ تاریخ (28 نومبر) کو منسوخ کر دیا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں : ترکی، پارلیمنٹ میں مکہ معاہدہ پیش کرنے کا اعلان، متعدد ارکان کی مخالفت
رام اللہ اتھارٹی کی صدارت کے مطابق اس فیصلے کا مقصد تمام تر فلسطینی دھڑوں کے درمیان ایک ہمہ گیر قومی حوار کے لیے وقت اور موقع فراہم کرنا ہے، نیز صیہونی اقدامات اور پابندیوں سے پیدا ہونے والی ان تمام تر رکاوٹوں کا حل تلاش کرنا ہے جو الیکشن کے راستے میں حائل ہیں، تاکہ مقبوضہ بیت المقدس، مقبوضہ مغربی کنارے اور غزہ کی پٹی کے تمام فلسطینی شہریوں کی آزادانہ شرکت کو یقینی بنایا جا سکے۔
ان صیہونی رکاوٹوں میں انتخابی عملے اور عالمی مبصرین کی نقل و حرکت پر سخت صیہونی پابندیاں، نیز غزہ کی پٹی میں ابتر سیکیورٹی و انسانی حالات شامل ہیں جو انتخابی تیاریوں کے راستے میں بڑی رکاوٹ ہیں۔
قاہرہ مذاکرات کی تیاری کے سلسلے میں تحریک فتح کی سینٹرل کمیٹی نے گذشتہ روز رام اللہ میں اپنے اجلاس کے بعد جاری کردہ بیان میں تمام فلسطینی دھڑوں کے ساتھ بات چیت جاری رکھنے اور ان کوششوں کو کامياب بنانے کی اہمیت پر زور دیا، تاکہ قومی وحدت کو مستحکم کیا جا سکے اور فلسطینی سرزمین اور فیصلے کی وحدت کا تحفظ ممکن ہو سکے۔
پی ایل او کے اندر حماس اور جہادِ اسلامی کی باقاعدہ شمولیت کے فائل کو شامل کرنے سے قاہرہ مذاکرات کی اہمیت محض الیکشن کی تاریخ کے تعین سے کہیں آگے بڑھ کر جامع قومی ادارے میں فلسطینی نمائندگی کو وسعت دینے اور فیصلے میں حقیقی شراکت داری کے آلات بنانے تک پھیل جاتی ہے۔
یہ فائل کوئی نئی نہیں بلکہ مارچ سنہ 2005ء کے ”اعلانِ قاہرہ“ میں بھی ’پی ایل او‘ کی بحالی اور اسے تمام سیاسی و مزاحمتی دھڑوں کا جامع ادارہ بنانے پر اتفاق کیا گیا تھا، نیز اس شرکت کی متفقہ بنیادیں طے کرنے کے لیے ایک مشترکہ کمیٹی کی تشکیل کا فیصلہ ہوا تھا۔
اس کے بعد مصالحت کے جتنے بھی معاہدے ہوئے ان سب میں ’پی ایل او‘کے اداروں کی ازسرنو تعمیر اور ایک نئی قومی کونسل کے انتخاب کی بات دہرائی جاتی رہی، لیکن مطلوبہ ہمہ گیر شراکت داری اب تک شرمندہ تعبیر نہ ہو سکی۔
حوار کا یہ موجودہ دور مصالحت کی ان طویل اور مسلسل کوششوں کا تسلسل ہے جن میں بالخصوص سنہ 2011ء اور سنہ 2017ء کے قاہرہ معاہدے شامل ہیں جو داخلی تقسیم کو ختم کرنے میں ناکام رہے تھے۔ اس لیے قاہرہ میں موجود نمائندوں کا اصل امتحان یہ ہو گا کہ وہ ان شفاہی تفاہمات کو واضح عملی اقدامات اور نفاذی آلات میں ڈھالیں، جو اداروں میں حقیقی اور فعال شراکت داری کی ضمانت دیں اور الیکشن کے التوا کو معطلی کا نیا مرحلہ بنانے کے بجائے ایک وسیع تر قومی بنیاد پر الیکشن کے انعقاد کے سنہری موقع میں تبدیل کر دیں۔
The post قاہرہ میں فلسطینی دھڑوں کا اہم اجلاس، داخلی تقسیم کے خاتمے، حماس و جہاد اسلامی کی تنظیم آزادی میں شمولیت پر غور appeared first on شیعہ نیوز پاکستان.


