spot_img

ذات صلة

جمع

ایران،اسلامی ممالک کے درمیان اتحاداور یکجہتی کو مضبوط بنانےوالی ہر مفاہمت کی حمایت کرتا ہے، پزشکیان

شیعہ نیوز:ڈاکٹر مسعود پزشکیان نے آج سعودی عرب کے وزیر دفاع خالد بن سلمان، پاکستانی آرمی کے سربراہ جنرل عاصم منیر اور ترکیہ کے انٹیلی جنس ادارے کے سربراہ ابراہیم کالین کی موجودگی میں ہونے والی نشست میں اسلامی ممالک کے درمیان ان ملاقاتوں اور مذاکرات کے انعقاد پر خوشی کا اظہار کیا اور عالم اسلام کے بنیادی مشترکات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ ہمارا عقیدہ اور یقین ہے کہ اسلامی ممالک کو پیغمبرِ اسلام (ص) کی تعلیمات کی روشنی میں اخوت اور اتحاد کے اصول کو اپنے تعلقات کی بنیاد بنانا چاہیے۔ مسلمان ایک دوسرے کے بھائی ہیں اور انہیں ایک ہاتھ کی طرح ان خطرات اور اقدامات کے مقابلے میں ڈٹ کر کھڑا ہونا چاہیے جن کا نشانہ مسلمان قومیں بنتی ہیں۔ اگر ہم اس بنیادی اصول کو اپنے باہمی تعلقات کی بنیاد بنائیں تو اسلامی ممالک کے درمیان اختلافات اور مسائل پیدا ہونے کی کوئی گنجائش باقی نہیں رہے گی۔

ایرانی صدر نے اسلامی ممالک کے درمیان یکجہتی کو مضبوط بنانے کے حوالے سے اسلامی جمہوریہ ایران کے اصولی مؤقف کی طرف اشارہ کرتے ہوئے مزید کہا کہ چودہویں حکومت نے اپنے آغاز ہی سے عالم اسلام کے اتحاد اور یکجہتی کی ضرورت پر زور دیا ہے۔ تاہم، گزشتہ برسوں کے دوران ہمارا خطہ صیہونی حکومت کے پُرتشدد اقدامات اور وسیع پیمانے پر جرائم کا مشاہدہ کرتا رہا ہے۔ یہ ایسی حکومت ہے جو ریاستی دہشت گردی پر انحصار کرتے ہوئے اور امریکہ کی حمایت حاصل کرکے خطے میں متعدد جرائم کا ارتکاب کرتی ہے، جبکہ دوسروں پر دہشت گردی کے الزامات عائد کرتی ہے۔ڈاکٹر پزشکیان نے غزہ، لبنان اور خطے کے دیگر ممالک میں صیہونی حکومت کے جرائم کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ان جارحیتوں کا دائرہ اسلامی جمہوریہ ایران تک بھی پھیل گیا اور ہونے والے حملوں کے دوران ہمارے ملک کے رہبر، کمانڈروں، سائنس دانوں اور حتیٰ کہ طلبہ نے بھی جامِ شہادت نوش کیا۔ ان اقدامات کا کوئی قانونی، انسانی یا عقلی جواز نہیں ہے۔ یہ صورتِ حال جارحیت اور بدامنی کا مقابلہ کرنے کے لیے اسلامی ممالک کی جانب سے مشترکہ حکمتِ عملی اپنانے کی ضرورت کو پہلے سے کہیں زیادہ واضح کرتی ہے۔

صدر نے ایران کے خلاف اپنے مقاصد حاصل کرنے میں دشمنوں کی ناکامی پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ان کا خیال تھا کہ وہ دباؤ ڈال کر اور جارحیت کے ذریعے اسلامی جمہوریہ ایران کو تباہی سے دوچار کر سکتے ہیں، لیکن ان اقدامات کا نتیجہ داخلی اتحاد اور یکجہتی کی مضبوطی اور ایرانی قوم کے درمیان مزید ہم آہنگی کی صورت میں سامنے آیا۔ ہمارے ملک کے عوام نے مسلط کردہ نقصانات اور مشکلات کے باوجود پوری قوت اور ثابت قدمی کے ساتھ اپنی سرزمین کا دفاع کیا۔ یہ تصور کہ ایرانی قوم کو تسلیم کرنے پر مجبور کیا جا سکتا ہے، ایک غلط اور باطل تصور ہے۔

ڈاکٹر پزشکیان نے زور دیا کہ اسلامی جمہوریہ ایران بین الاقوامی قانون کے اصولوں اور قواعد کے دائرے میں رہتے ہوئے اپنے قانونی حقوق کا مطالبہ کرتا ہے اور انہی اصولوں پر انحصار کرتے ہوئے ایرانی قوم کے حقوق اور جائز مفادات کا پوری قوت سے دفاع کرے گا۔

صدر نے علاقائی استحکام کو مضبوط بنانے میں بڑی اسلامی طاقتوں کے مؤثر کردار کی امید ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ مجھے امید ہے کہ اس نشست میں اہم اور بااثر اسلامی ممالک کے نمائندوں کی شرکت، علاقائی اتحاد اور یکجہتی کو مزید مستحکم کرنے کی بنیاد بنے گی۔ ہمیں صیہونی حکومت کو اس بات کی اجازت نہیں دینی چاہیے کہ وہ جب چاہے، کسی بھی فرد یا ملک کے خلاف قتل اور جارحیت کا ارتکاب کرے۔ مجھے یقین ہے کہ اگر اسلامی ممالک ایک دوسرے کے ساتھ کھڑے ہوں اور مشترکہ مؤقف اختیار کریں تو ایسے اقدامات کو دہرانے کا امکان باقی نہیں رہے گا۔

ڈاکٹر پزشکیان نے مزید کہا کہ میرا عقیدہ ہے کہ اگر ہم اپنے اختلافات کو سنبھال لیں اور اختلافی مسائل پر توجہ مرکوز کرنے کے بجائے مشترکات اور مشترکہ مفادات پر زور دیں تو ہم زیادہ آسانی اور مؤثر انداز میں خطے کے مسائل پر قابو پا سکتے ہیں۔

صدر نے اسلامی ممالک کے اعتقادی اور ثقافتی مشترکات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ اسلامی ممالک کا خدا ایک، آسمانی کتاب ایک اور قبلہ ایک ہے۔ یہ گہرے مشترکات اختلافات حل کرنے، تعاون کو وسعت دینے اور مشترکہ مسائل دور کرنے کے لیے ایک مضبوط بنیاد فراہم کر سکتے ہیں۔ اسلامی جمہوریہ ایران ان تعاون کو فروغ دینے کے لیے خلوصِ دل اور پوری صداقت کے ساتھ اپنی آمادگی کا اعلان کرتا ہے، کیونکہ اسلامی ممالک کے ساتھ اخوت اور ہم آہنگی پر ہمارا یقین محض زبانی یا رسمی مؤقف نہیں، بلکہ یہ ایک گہرا اور راسخ عقیدہ ہے جو خطے کی قوموں کے مشترکہ مفادات پر مبنی ہے۔

ڈاکٹر پزشکیان نے خطے کے ممالک کی جانب سے اجتماعی طور پر ترقی اور خوش حالی کی طرف بڑھنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ہمارا مقصد یہ ہے کہ خطے کی تمام قومیں امن، سلامتی، خوش حالی اور مساوی مواقع سے بھرپور ماحول میں ترقی اور کمال کا سفر طے کریں۔ ہمارا خطہ قدرتی وسائل کی دولت، وسیع اقتصادی صلاحیتوں اور باصلاحیت افرادی قوت سے مالا مال ہے۔ ہمیں صرف ان صلاحیتوں کو ایک دوسرے سے جوڑنے کی ضرورت ہے تاکہ ہم اپنے خطے کو انسانیت، عدل، حق پرستی اور انصاف کے فروغ کے حوالے سے دنیا کے لیے ایک کامیاب نمونے میں تبدیل کر سکیں۔

ایرانی صدر نے سیاسی مفاہمتوں کو عملی اقدامات میں تبدیل کرنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ہم اس راستے پر آگے بڑھنے کے لیے پُرعزم ہیں، لیکن اس مقصد کا حصول اس بات کا تقاضا کرتا ہے کہ اسلامی ممالک اپنے اہداف کے بارے میں مشترکہ فہم پیدا کریں، ایک واضح لائحۂ عمل مرتب کریں اور باہمی عزم کے ساتھ معاہدوں پر عمل درآمد کو نتائج کے حصول تک جاری رکھیں۔

تجربے سے ثابت ہوا ہے کہ بعض اوقات سفارتی نشستوں میں کیے گئے فیصلے صرف تحریری دستاویزات اور معاہدوں تک محدود رہ جاتے ہیں، جبکہ ہماری حکمتِ عملی کا محور ٹھوس نتائج کا حصول اور علاقائی تعلقات میں حقیقی تبدیلی لانا ہونا چاہیے۔

ڈاکٹر پزشکیان نے علاقائی تعلقات میں قول و فعل کے درمیان ہم آہنگی کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے مزید کہا کہ ہمیں ایسی بات نہیں کرنی چاہیے جس پر ہمیں خود یقین نہ ہو یا جس پر ہم عملی طور پر کاربند نہ رہیں۔ ضروری ہے کہ ہم ایک دوسرے کا ہاتھ تھام کر خطے کی سائنسی، اقتصادی، ثقافتی، سیاسی اور سلامتی سے متعلق صلاحیتوں کو پروان چڑھانے کے لیے ماحول سازگار بنائیں؛ مواصلاتی راستوں کو وسعت دیں، آمدورفت کو آسان بنائیں، سرحدوں کو تعاون کے مواقع میں تبدیل کریں اور اسلامی ممالک کی جامعات، سائنسی مراکز، تاجروں اور کاروباری طبقے کو ایک دوسرے سے جوڑیں۔

ایرانی صدر نے کہا کہ کثیرالجہتی تعاون کو فروغ دینا پائیدار سلامتی کو مضبوط بنانے کی بنیاد فراہم کرتا ہے۔ جب علم، ثقافت، تجارت اور معیشت سرحدوں سے آگے بڑھیں گی اور قوموں کے درمیان روابط وسیع ہوں گے تو دہشت گردی اور بدامنی کے پھیلاؤ کی گنجائش ختم ہو جائے گی۔ اس لیے سائنسی، ثقافتی اور اقتصادی روابط کو مضبوط بنانا نہ صرف قوموں کی ترقی اور خوش حالی میں مدد دیتا ہے بلکہ خطے میں اجتماعی سلامتی کو مستحکم کرنے کے مؤثر ترین طریقوں میں سے ایک ہے۔

ڈاکٹر پزشکیان نے اسلامی ممالک کے درمیان تعمیری مفاہمتوں کے لیے اسلامی جمہوریہ ایران کی حمایت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ان نشستوں اور ملاقاتوں میں ہونے والی ہر ایسی مفاہمت، جو اتحاد، یکجہتی اور علاقائی تعاون کو مضبوط بنانے کا باعث بنے، اسلامی جمہوریہ ایران کی سنجیدہ اور ہمہ جہت حمایت حاصل کرے گی۔ ہمیں مشترکہ نکات اور تعاون کے امکانات پر توجہ مرکوز کرنی چاہیے اور اختلافِ رائے کو خطے کی قوموں کے مشترکہ مفادات کے حصول کی راہ میں رکاوٹ نہیں بننے دینا چاہیے۔

ایرانی صدر نے مداخلت پسندانہ اور تفرقہ انگیز پالیسیوں کے مقابلے میں اسلامی ممالک کی ہوشیاری کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ امریکہ اور صیہونی حکومت کی پالیسیوں کے مقاصد میں سے ایک خطے کے ممالک کو کمزور کرنا، مسلمان قوموں کے درمیان دراڑیں پیدا کرنا اور بڑی اسلامی طاقتوں کو بتدریج کمزور کرنا ہے۔ ہمیں باہمی تعاون کو مضبوط بنا کر اور ایک دوسرے کی حمایت کرکے ان مقاصد کی تکمیل کو روکنا چاہیے اور یہ اجازت نہیں دینی چاہیے کہ خطے کے ممالک کو الگ الگ کرکے دباؤ اور دھمکیوں کا نشانہ بنایا جائے۔

ڈاکٹر پزشکیان نے خطے کے ممالک میں اقتصادی دباؤ ڈالنے اور سماجی بے اطمینانی پیدا کرنے کی کوششوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے مزید کہا کہ اسلامی ممالک کو تعمیری روابط، اقتصادی تعاون اور ایک دوسرے کی صلاحیتوں سے فائدہ اٹھانے کے ذریعے ایک دوسرے کی ضروریات پوری کرنے کی سمت قدم بڑھانا چاہیے۔ یہ تصور کہ دباؤ اور پابندیوں کے ذریعے قوموں کو تسلیم کرنے پر مجبور کیا جا سکتا ہے، ایک باطل تصور ہے۔ خطے کے ممالک کے درمیان تعاون جتنا زیادہ گہرا اور وسیع ہوگا، مسائل کو سنبھالنے اور بیرونی دباؤ کا مقابلہ کرنے کی ان کی صلاحیت بھی اتنی ہی بڑھے گی۔

ایرانی صدر نے اسلامی جمہوریہ ایران کی داخلی صلاحیتوں اور عوام و قیادت کی حمایت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے زور دیا کہ ایران داخلی کوششوں، عوام کی حمایت و پشت پناہی اور رہبرِ معظم کی رہنمائی پر انحصار کرتے ہوئے مشکلات سے نکلنے کا راستہ کامیابی سے طے کرے گا۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ اسلامی ممالک کو اپنی سلامتی اور مفادات کے باہمی تعلق کو سمجھتے ہوئے ایک دوسرے کے ساتھ کھڑا ہونا چاہیے، کیونکہ خطے کے کسی بھی بڑے ملک کو کمزور کرنا دوسرے اسلامی ممالک کے خلاف دباؤ اور دھمکیوں میں اضافے کا سبب بن سکتا ہے۔

ڈاکٹر پزشکیان نے اپنی گفتگو کے ایک اور حصے میں جوہری سرگرمیوں کے حوالے سے اسلامی جمہوریہ ایران کے اصولی مؤقف پر زور دیتے ہوئے کہا کہ اسلامی جمہوریہ ایران جوہری ہتھیار حاصل کرنے کے درپے نہیں ہے اور جوہری ہتھیاروں کے عدم پھیلاؤ کے معاہدے (این پی ٹی) کے رکن کی حیثیت سے اپنے بین الاقوامی حقوق اور ذمہ داریوں کے دائرے میں جوہری سرگرمیاں جاری رکھنا چاہتا ہے۔ ایران اسی بنیاد پر پُرامن جوہری سرگرمیوں سے استفادہ کرنے کا حق اپنے لیے محفوظ سمجھتا ہے اور توقع رکھتا ہے کہ بین الاقوامی ضوابط کے تحت ان حقوق کا احترام کیا جائے گا۔

ایرانی صدر نے اسلامی جمہوریہ ایران کے حوالے سے دوہرے معیار پر مبنی رویّوں پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ جوہری معاملے کو دباؤ ڈالنے، دھمکیاں دینے، جوہری تنصیبات پر حملے کرنے اور مذاکرات و بات چیت کے لیے آمادگی کے دعوے کرنے کے بہانے کے طور پر استعمال کرنا، جبکہ اسی وقت ایران پر حملہ بھی کیا جائے، ایک متضاد اور غیر تعمیری رویّہ ہے۔ اس طرزِ عمل کے نتیجے میں عوامی اعتماد کمزور ہوا ہے اور ایران کے حکام اور عوام کے درمیان بداعتمادی میں اضافہ ہوا ہے۔

ڈاکٹر پزشکیان نے زور دیا کہ اسلامی ممالک کو اپنے روابط اور ہم آہنگی کو مضبوط بنا کر ایسے رویّوں کو خطے کی قوموں کے ساتھ برتاؤ کا معمول بننے سے روکنا چاہیے۔ قوموں کے حقوق کا تحفظ، ممالک کی خودمختاری کا احترام، جارحیت کا مقابلہ اور علاقائی تعاون کو مضبوط بنانا، اسلامی ممالک کے مشترکہ عزم اور ہم آہنگ اقدامات کا تقاضا کرتا ہے۔

اسلامی جمہوریہ ایران بھی اس راستے میں دینی مشترکات، باہمی مفادات اور قوموں کے حقوق کے احترام کی بنیاد پر اسلامی ممالک کے ساتھ اپنے تعاون کو وسعت دینے کے لیے تیار ہے۔

ایرانی صدر نے اپنی گفتگو کے اختتام پر خطرات کا مقابلہ کرنے اور مشترکہ اہداف کے حصول کے لیے اسلامی ممالک کے درمیان یکجہتی اور مشترکہ اقدام کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ اگر ہم ایک دوسرے کے ساتھ کھڑے ہوں گے تو دشمن اپنے مذموم مقاصد حاصل نہیں کر سکیں گے۔ باہمی ہمدردی اور تعاون کے ذریعے ہم پیغمبرِ اسلام (ص) کی ہدایات پر عمل کرنے اور ایسے معاشروں کی تعمیر کی جانب قدم بڑھا سکتے ہیں جو عزت، عدل اور انسانی کرامت سے بہرہ مند ہوں۔ میرا یقین اور عقیدہ ہے کہ اگر ہم اللہ تعالیٰ کی راہ میں کوشش کریں گے تو وہ بھی ہمیں راستہ دکھائے گا اور اعلیٰ مقاصد تک پہنچنے کے اسباب فراہم کرے گا۔

ڈاکٹر پزشکیان نے اس بات پر زور دیتے ہوئے کہ اسلامی ممالک کے ساتھ روابط کو وسعت دینے کا اسلامی جمہوریہ ایران کا مقصد امتِ اسلامی کی اخوت، یکجہتی اور عزت کو مضبوط بنانا ہے، کہا کہ ہمارا مقصد اسلامی ممالک کے ساتھ برادرانہ تعلقات کو مستحکم کرنا، خطے کے مسلمانوں کی عزت و سربلندی کو یقینی بنانا اور مظلوم و مسلمان قوموں کے خلاف صیہونی حکومت کی وحشیانہ کارروائیوں اور جرائم کا خاتمہ کرنا ہے۔ ہمیں امید ہے کہ مشترکہ عزم، اسلامی ممالک کی یکجہتی اور تعاون پر انحصار کرتے ہوئے ان جرائم کو روکنے اور خطے میں امن، سلامتی اور عدل کے قیام کی راہ ہموار کی جا سکے گی۔

The post ایران،اسلامی ممالک کے درمیان اتحاداور یکجہتی کو مضبوط بنانےوالی ہر مفاہمت کی حمایت کرتا ہے، پزشکیان appeared first on شیعہ نیوز پاکستان.

​ 

spot_imgspot_img