شیعہ نیوز:ایران پر امریکہ و اسرائیل کے حملے کے بعد بحر ہند میں ایرانی جہاز پر امریکی حملہ کے باوجود بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کی خاموشی سے کانگریس حیران ہے۔ انڈین نیشنل کانگریس کمیٹی کے ترجمان پون کھیڑا نے مودی حکومت کے اس رویہ کو ملک اور اس کی وراثت پر بدنما داغ قرار دیا ہے۔ آج کانگریس ہیڈکوارٹر میں پریس کانفرنس کے دوران انہوں نے کہا کہ کانگریس پارٹی “وسودھیو کٹمبکم” (پوری دنیا ایک کنبہ ہے) کی بات کرتی ہے، نریندر مودی بھی اکثر اس کا ذکر کرتے ہیں لیکن ان کا طریقۂ کار اور خارجہ پالیسی میں اس کا ذرا بھی عنصر دکھائی نہیں دیتا۔ اپنی بات کو آگے بڑھاتے ہوئے پون کھیڑا نے کہا کہ خاموش رہنا منظوری یا حمایت کا اشارہ ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایران کے حوالے سے مودی کی خاموشی میں بھی بہت کچھ سنائی دے رہا ہے، جسے سن کر پوری دنیا حیران ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ آج وزیر اعظم کی مجرمانہ خاموشی پورے ملک اور اس کی وراثت پر بدنما داغ کی طرح ابھر کر سامنے آ رہی ہے۔
بحر ہند میں پیش آئے ایک پرانے واقعہ اور ایرانی جہاز پر امریکی حملہ سے متعلق تازہ واقعہ کا ذکر کرتے ہوئے کانگریس ترجمان نے کہا کہ 2018ء میں گوا سے آگے بین الاقوامی سمندر میں ایک جہاز کو پکڑا گیا تھا، جس میں دبئی کی شہزادی لطیفہ تھیں۔ تب ہم بحر ہند کے پہریدار تھے، لیکن جب ایران کا ایک جہاز ہماری دعوت پر ہمارا مہمان بن کر آیا تھا، ہم اس کی حفاظت نہیں کر سکے۔ دراصل ایرانی جہاز “میلان ایکسرسائز” میں شرکت کے بعد ہندوستان سے ایران واپس لوٹ رہا تھا جب امریکہ نے اسے نشانہ بنایا۔ اس بارے میں پون کھیڑا نے کہا کہ اکثر ایسی ایکسرسائز میں جنگی جہاز اسلحوں کے ساتھ نہیں آتے، لیکن اسی غیر مسلح مہمان کو بحر ہند میں امریکہ کے ذریعہ غرق کر دیا گیا۔ حیران کرنے والی بات یہ ہے کہ اس جوائنٹ بحری ایکسرسائز میں امریکہ نے آخری وقت میں اپنا جہاز بھیجنے سے منع کر دیا تھا اور صرف اپنے افسر بھیجے تھے۔
مذکورہ بالا حقائق سامنے رکھنے کے بعد کانگریس لیڈر نے سوال کیا کہ کیا ہندوستان کو جانکاری تھی کہ امریکہ بحر ہند میں ایسا کرنے والا ہے، اگر تھی تو آپ نے کیا کیا اور نہیں تھی تو بھارت کی مودی حکومت نے اپنے مہمان کی حفاظت کے لئے کیا قدم اٹھائے۔ انہوں نے ماضی کو یاد کرتے ہوئے کہا کہ 1986ء میں “وائس آف امریکہ” سری لنکا میں اپنا ایک ٹرانسمیٹر لگانا چاہتا تھا، لیکن کانگریس حکومت اور وزیر اعظم راجیو گاندھی نے یہ ٹرانسمیٹر نہیں لگنے دیا تھا۔ لیکن 2026ء میں امریکہ نے بحر ہند میں ہمارے مہمان کے جہاز کو ٹارپیڈو کر غرق کر دیا۔ انہوں نے کہا کہ ہم اپنی صلاحیتوں اور ٹیکنالوجی سے بحر ہند پر نگرانی رکھتے آئے ہیں۔ یہ کہتے ہیں کہ یہ نیا ہندوستان ہے، لیکن یہاں تو ہمارے آنگن میں مہمان کو مار دیا گیا، جب یہ ہوگیا تو پھر مودی حکومت کیوں کہتی ہے کہ ہم بحر ہند کے گارجین ہیں، دراصل یہ “گینگس آف ایپسٹین” کے پیادے ہیں۔
پون کھیڑا نے ایران کے ذریعہ آبنائے ہرمز ہندوستانی جہازوں کے لئے بند کئے جانے کا ذکر بھی پریس کانفرنس کے دوران کیا۔ ایران کے اس قدم کو پون کھیڑا نے مودی حکومت کی ناکام خارجہ پالیسی بتایا۔ انہوں نے کہا کہ ایران نے آبنائے ہرمز بند کر دیا ہے، وہاں سے صرف روس اور چین کے جہاز ہی جا سکتے ہیں، اس لسٹ میں ہندوستان کا نام نہیں ہے۔ یہ بند ہونے کے سبب 10 ہزار کروڑ کا ہندوستانی سامان، 38 جہاز اور 1100 ملاح پھنسے ہوئے ہیں۔ وہ یہ بھی بتاتے ہیں کہ انڈین نیشنل شپ آنرس ایسوسی ایشن نے حکومت ہند سے مدد کی گزارش کی ہے، لیکن حکومت مدد کرنے کی حالت میں نہیں ہے، کیونکہ حکومت ہند نے ایران کے ساتھ بات چیت کے سبھی راستے بند کر لئے ہیں۔
The post ایران کے حوالے سے نریندر مودی کی مجرمانہ خاموشی پورے ملک پر بدنما داغ ہے، کانگریس appeared first on شیعہ نیوز پاکستان.


