spot_img

ذات صلة

جمع

یمن کا ایران اور سعودی عرب کے سمجھوتے کا خیر مقدم

شیعہ نیوز: ایک یمنی عہدیدار نے کہا ہے کہ...

امریکہ اور برطانیہ انسانی حقوق کے بارے میں بولنے کا حق نہیں رکھتے

شیعہ نیوز: ایران کے نائب وزیرخارجہ کاظم غریب آبادی...

امریکی جرائم پر مقدمات میں تیزرفتاری اور دقت کی تاکید

شیعہ نیوز: ایرانی عدلیہ کے سربراہ نے امریکی جرائم...

اعلانِ بالفور ہمارے عوام کے تاریخی حقوق ک پر ڈاکہ ڈالنے کی دستاویز تھی،حقِ واپسی پر سمجھوتہ نہیں کریں گے:حماس

شیعہ نیوز: اسلامی تحریک مزاحمت ’حماس‘ نے اعلانِ بالفور کی 109ویں سال کے موقع پر فلسطینی عوام کا اپنی سرزمین، حقوق اور مقدسات سے وابستگی اور آزادی و واپسی تک جدوجہد جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا ہے۔ حماس نے اس بات پر زور دیا کہ قابض انتظامیہ کے جرائم اور اس کے استعماری منصوبے قومی فلسطینی شناخت کو مٹانے یا ثابت شدہ تاریخی حقوق کو کم کرنے میں کبھی کامیاب نہیں ہوں گے۔

حماس نے ایک پریس بیان میں کہا کہ اعلانِ بالفور کی سالگرہ اس سال ایسے وقت میں آئی ہے جب قابض انتظامیہ نے غزا کی پٹی، مغربی کنارے اور مقبوضہ بیت المقدس میں اپنے مظالم اور جرائم کو شدید تر کر دیا ہے۔

بیان میں اشارہ کیا گیا کہ غزا کی پٹی میں فلسطینی نسل کشی کی جنگ کے تسلسل کے سایے میں ایک مسلسل انسانی المیے سے گزر رہے ہیں، جبکہ مغربی کنارے اور مقبوضہ بیت المقدس کو بین الاقوامی قوانین اور معاہدوں کی ورزی کرتے ہوئے اور بین الاقوامی خاموشی و بے حسی کے درمیان زبردستی بے دخلی اور یہودیت میں ڈھالنے کے خطرناک منصوبوں کا سامنا ہے۔

جماعت نے مزید کہا کہ اعلانِ بالفور کو 109 سال گزرنا جدید تاریخ میں کسی قوم کے خلاف کیے جانے والے سب سے بڑے گناہ کی یاد دلاتا ہے، جب برطانوی حکومت نے وہ شوم اعلانِ بالفور جاری کیا جس نے اس کو دیا جو اس کا مالک نہ تھا اسے جو اس کا حقدار نہ تھا۔ جماعت نے تاکید کی کہ غزا اور مغربی کنارے کے شہروں، دیہاتوں اور کیمپوں میں فلسطینیوں کو نشانہ بنانے والے قتل، محاصرے، فاقہ کشی اور زبردستی نقل مکانی کے ذریعے قابض انتظامیہ اور اس کی حکومت کی پالیسیوں میں استعماری ذہنیت آج بھی موجود ہے۔

حماس نے اس بات کی تصدیق کی کہ اعلانِ بالفور اور اس کے بعد فلسطینی عوام اور ان کی تاریخی سرزمین کے خلاف کیے جانے والے فیصلے و سیاسی گناہ، نیز قتل، زبردستی نقل مکانی، نسلی صفائی اور جلاوطنی کے وہ جرائم جو قابض انتظامیہ نے گذشتہ دہائیوں میں کیے ہیں، قضیہ فلسطین کو غائب کرنے یا فلسطینی عوام کے مشروع حقوق کو مٹانے میں کامیاب نہیں ہوں گے۔

یہ بھی پڑھیں : امریکی جرائم پر مقدمات میں تیزرفتاری اور دقت کی تاکید

تحریک نے زور دیا کہ یہ جرائم وقت گزرنے کے ساتھ ختم نہیں ہوں گے۔یہ قابض انتظامیہ اور اس کی پشت پناہی کرنے والے اداروں کے دہشت گردانہ اقدامات کے شاہد رہیں گے۔

قومی معاملے کے حوالے سے حماس نے واضح کیا کہ تمام فلسطینی دھڑوں کی شرکت کے ساتھ ایک متحد جدوجہد کی حکمتِ عملی کی بنیاد پر قومی وحدت کا حصول ہی سرزمین عوام اور اسلامی و مسیحی مقدسات کے خلاف قابض انتظامیہ کے منصوبوں اور جرائم کا مقابلہ کرنے کا واحد راستہ ہے۔

تحریک نے اس بات کے اعادے کو دہرایا کہ فلسطینی مہاجرین کا ان کے گھروں کو واپسی کا حق، جہاں سے انہیں زبردستی بے دخل کیا گیا تھا، ایک ثابت شدہ شرعی و قانونی حق ہے، جس سے پیچھے ہٹنا، دستبردار ہونا یا جس پر سمجھوتہ کرنا ممکن نہیں۔

حماس نے عرب و اسلامی امت اور دنیا بھر کے آزاد منش لوگوں سے مطالبہ کیا کہ وہ قابض انتظامیہ کے جرائم کو روکنے، اسے بین الاقوامی سطح پر الگ تھلگ کرنے اور فلسطینی عوام کی پائیداری و ان کی مشروع جدوجہد کی حمایت کے لیے تمام سطحوں پر سنجیدہ اقدامات کریں، یہاں تک کہ ان کی سرزمین آزاد ہو، وہ واپس لوٹ سکیں اور مقبوضہ بیت المقدس کو دارالحکومت بناتے ہوئے مکمل خودمختار فلسطینی ریاست قائم ہو سکے۔

اس کے علاوہ تحریک نے قابض حکومت پر دباؤ ڈالنے کے لیے مؤثر بین الاقوامی اقدام کا مطالبہ کیا تاکہ وہ اپنے جرائم کو روکے، اس کے حکمرانوں کو جنگی مجرموں کے طور پر بین الاقوامی عدالتوں میں جوابدہ بنایا جائے، اور فلسطینی عوام کو ان کے مشروع حقوق حاصل کرنے، بالخصوص ان کی سرزمین کی آزادی اور واپسی کے لیے ضروری کوششیں کی جائیں۔

اپنے بیان کے اختتام پرحماس نے فلسطینی عوام کی جدوجہد کے سفر کے دوران جامِ شہادت نوش کرنے والے شہدا کے لیے رحم و مغفرت کی دعا کی، زخمیوں و بیماروں کی جلد شفایابی اور اسیران کی آزادی کی تمنا کی، اور ہر جگہ موجود فلسطینی عوام کو سلام پیش کرتے ہوئے حقوق کے حصول، سرزمین کی آزادی اور واپسی تک اتحاد و یکجہتی کو مضبوط بنانے اور پائیداری و مزاحمت کو جاری رکھنے کی اپیل کی۔

فلسطینی عوام پیر کے دن شوم اعلانِ بالفور کی 109ویں سالگرہ منا رہے ہیں جسے برطانوی حکومت نے دو نومبر سنہ 1917ء میں جاری کیا تھا، جس میں فلسطین میں “یہودی عوام کے لیے قومی وطن” کے قیام کی حمایت کا اعلان شامل تھا؛ اس قدم نے قضیہ فلسطین کی تاریخ میں ایک خطرناک موڑ لیا اور فلسطینی عوام اور ان کے تاریخی و قومی حقوق کی قیمت پر فلسطین کی سرزمین پر اپنی ریاست قائم کرنے کے لیے صہیونی منصوبے کی راہ ہموار کی۔

یہ سالگرہ قابض انتظامیہ کے تسلسل، یہودی آباد کاری اور زبردستی نقل مکانی کے سایے میں آئی ہے، جس کے ساتھ ہی برطانیہ سے اس شوم اعلان کے اثرات کی تاریخی ذمہ داری قبول کرنے کے فلسطینی مطالبات کی تجدید کی گئی ہے۔

The post اعلانِ بالفور ہمارے عوام کے تاریخی حقوق ک پر ڈاکہ ڈالنے کی دستاویز تھی،حقِ واپسی پر سمجھوتہ نہیں کریں گے:حماس appeared first on شیعہ نیوز پاکستان.

​ 

spot_imgspot_img