spot_img

ذات صلة

جمع

پولو مقابلوں کا “کمانڈر کپ”

بریگیڈيئر جنرل شہید عبدالرحیم موسوی کی یاد میں ...

یمن : سعودی وزارت دفاع، آرامکو اور 2ہوائی اڈوں کو نشانہ بنایا

یمن کی مسلح افواج کے ترجمان نے سعودی عرب...

چینی شہریوں کو سعودی عرب میں احتیاط اور حساس علاقوں سے دور رہنے کا حکم

شیعہ نیوز: ریاض اور صنعاء کے درمیان بڑھتی فوجی...

امریکی بحری ناکہ بندی کو مسلسل جارحیت قرار دیا جائے، ایران کا اقوام متحدہ کو خط

شیعہ نیوز: اقوام متحدہ میں ایران کے سفیر نے امریکی بحری ناکہ بندی کو بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کے منشور کی صریح خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے امریکہ سے فوجی جارحیت بند کرنے اور بحری ناکہ بندی ختم کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق اقوام متحدہ میں ایران کے سفیر اور ناظم الامور غلام حسین درزی نے اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل اور سلامتی کونسل کے صدر کے نام ایک خط میں ایران کے خلاف امریکی بحری ناکہ بندی کو مسلسل جارحیت قرار دیتے ہوئے اسے بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کے منشور کی سنگین خلاف ورزی قرار دیا ہے۔

غلام حسین درزی نے اپنے خط میں اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل اور سلامتی کونسل سے مطالبہ کیا کہ وہ اسلامی جمہوریہ ایران کے خلاف امریکہ کی جانب سے بحری ناکہ بندی کے ذریعے جاری جارحانہ اقدامات کو دوٹوک انداز میں مسترد اور سختی سے مذمت کریں۔

انہوں نے زور دیا کہ ان اقدامات کو اقوام متحدہ کے منشور اور بین الاقوامی قانون کی کھلی خلاف ورزی قرار دیا جائے۔

خصوصاً طاقت کے استعمال کی ممانعت اور ایران کی خودمختاری و علاقائی سالمیت کے احترام کے اصولوں کی خلاف ورزی کی مذمت کی جائے۔

ایرانی سفیر نے اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل اور سلامتی کونسل سے یہ مطالبہ بھی کیا کہ وہ امریکہ پر زور دیں کہ وہ ایران کے خلاف فوجی جارحیت فوری طور پر بند کرے، بحری ناکہ بندی ختم کرے۔

یہ بھی پڑھیں : جنگ کو سفارت کاری پر ترجیح دیں تو امریکہ کو ایک اور اسٹریٹجک شکست ہوگی، عراقچی

ایران کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کا احترام کرے اور اقوام متحدہ کے منشور اور بین الاقوامی قانون کے تحت اپنی ذمہ داریوں کی مکمل پاسداری کرے۔

خط میں مزید کہا گیا ہے کہ امریکہ اپنے بین الاقوامی طور پر غیر قانونی اقدامات، بشمول فوجی جارحیت اور بین الاقوامی قانون کی مسلسل خلاف ورزیوں کے حوالے سے بدستور بین الاقوامی ذمہ داری کا حامل ہے۔

ایرانی سفیر کے مطابق، ریاستوں کی بین الاقوامی ذمہ داریوں سے متعلق قانون کے تحت امریکہ پر غیر قانونی اقدامات روکنے اور ان سے ہونے والے نقصانات کا مکمل ازالہ کرنے کی ذمہ داریاں بھی برقرار ہیں۔

غلام حسین درزی نے اپنے خط میں اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل اور سلامتی کونسل سے مطالبہ کیا کہ وہ اقوام متحدہ کے تمام رکن ممالک سے کہیں کہ وہ امریکہ کے یک طرفہ جبری اقدامات کو تسلیم کرنے۔

ان کی حمایت کرنے، انہیں آسان بنانے یا ان پر عمل درآمد میں تعاون کرنے سے گریز کریں۔

کیونکہ یہ اقدامات بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کے منشور کی خلاف ورزی ہیں۔

خط میں بالخصوص ایسے اقدامات کی مخالفت پر زور دیا گیا ہے جو شہری آبادیوں کو بڑے پیمانے پر انسانی نقصان پہنچاتے ہیں یا جن سے ایسے نقصانات کا پیشگی اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔

اقوام متحدہ میں ایران کے سفیر اور ناظم الامور نے خط کے اختتام پر واضح کیا کہ اسلامی جمہوریہ ایران کسی بھی جارحانہ اقدام کے جواب میں اقوام متحدہ کے منشور کی دفعہ 51 کے مطابق اپنے فطری حقِ دفاع کو استعمال کرتا رہے گا۔

یہ دفعہ رکن ممالک کو مسلح حملے کی صورت میں انفرادی یا اجتماعی دفاع کا حق تسلیم کرتی ہے۔

The post امریکی بحری ناکہ بندی کو مسلسل جارحیت قرار دیا جائے، ایران کا اقوام متحدہ کو خط appeared first on شیعہ نیوز پاکستان.

​ 

spot_imgspot_img