شیعہ نیوز: شکار پور امام بارگاہ میں دھماکے کرنے والے ملزمان کو سزائے موت سنادی گئی۔
30 جنوری 2015 کو جمعہ کی نماز کے دوران شکارپور کے علاقے لکھی در میں واقع امام بارگاہ کربلا معلیٰ میں ہونے والے المناک خودکش حملے میں 65 نمازی شہید جبکہ 100 سے زائد افراد زخمی ہوگئے تھے۔
سانحے کے بعد طویل قانونی کارروائی جاری رہی، جس کے نتیجے میں سکھر کی انسدادِ دہشت گردی عدالت نے مقدمے میں نامزد ملزمان کو سزائے موت سنائی۔
شکارپور امام بارگاہ حملے کے شہداء اور متاثرہ خاندانوں کو انصاف کی فراہمی کے لیے قانونی جنگ تاحال جاری ہے۔
یہ بھی پڑھیں : غیر قانونی زمین پر قائم مفتی محمود مرکز، فضل الرحمان کا تجاوزات ختم کرنے سے انکار، ریاست کو کھلے عام دھمکی
اسی سلسلے میں آج سینئر ایڈووکیٹ ہائی کورٹ زوار مظہر حسین منگریو، ایڈووکیٹ سپریم کورٹ منظور حسین لارک، ایڈووکیٹ ہائی کورٹ سید قاسم علی شاہ موسوی اور دیگر وکلا نے سندھ ہائی کورٹ، سکھر بینچ میں کیس کی سماعت کے سلسلے میں پیش ہوکر قانونی کارروائی میں حصہ لیا۔
وکلاء کی جانب سے کئی برسوں سے جاری قانونی جدوجہد کو سانحہ شکارپور کے شہداء اور ان کے اہل خانہ کو انصاف کی فراہمی کی کوششوں میں اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
کئی سال کی کوششوں کے بعد ملزمان کو سزائے موت سنادی گئی
The post شِکارپور امام بارگاہ سانحہ کیس: 11 سال بعد قاتلوں کو سزائے موت سنادی گئی۔ appeared first on شیعہ نیوز پاکستان.


