شیعہ نیوز: پشاور/نیوز ڈیسک: پشاور میں سرکاری اراضی پر قائم مفتی محمود مرکز کے خلاف تجاوزات کے خاتمے کی کارروائی کے معاملے پر جمعیت علمائے اسلام (ف) اور ریاستی اداروں کے درمیان کشیدگی کی صورتحال پیدا ہوگئی۔
ذرائع کے مطابق سرکاری نوٹس کے باوجود مفتی محمود مرکز کو خالی کرنے یا تجاوزات ختم کرنے سے انکار کیا گیا ہے۔
جبکہ جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان اور پارٹی قیادت کی جانب سے ریاستی اقدام کی مزاحمت کا مؤقف سامنے آیا ہے۔
رپورٹس کے مطابق کارکنوں کی بڑی تعداد نے مفتی محمود مرکز کے گرد مبینہ طور پر انسانی حصار قائم کرلیا۔
یہ بھی پڑھیں : ترقی کی بلندیوں تک پہنچنے کے لیے ہمارا عہد مشترک ہے، رہبرِ انقلاب کا طلباء کے نام اہم خط
جس کے باعث ریاستی اداروں پر دباؤ بڑھانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
مخالفین کا کہنا ہے کہ سرکاری زمین سے تجاوزات ختم کرنے کے معاملے میں کسی سیاسی یا مذہبی جماعت کو خصوصی استثنیٰ نہیں ملنا چاہیے۔
جبکہ ریاستی رٹ کو چیلنج کرنا قانون کی بالادستی کے لیے ایک سنجیدہ سوال ہے۔
سیاسی حلقوں کا کہنا ہے کہ اگر سرکاری اراضی پر قائم کسی عمارت کے خلاف قانونی کارروائی کا فیصلہ کیا گیا ہے تو مذہبی وابستگی یا سیاسی اثر و رسوخ کی بنیاد پر اس فیصلے سے پیچھے نہیں ہٹنا چاہیے۔
The post غیر قانونی زمین پر قائم مفتی محمود مرکز، فضل الرحمان کا تجاوزات ختم کرنے سے انکار، ریاست کو کھلے عام دھمکی appeared first on شیعہ نیوز پاکستان.


